ہمارے مجاہدین کی تعداد ایک لاکھ سے زیادہ ہے / دشمن کو بحر و بر اور فضا میں ہمارا منتظر رہنا چاہئے۔ سید حسن نصر اللہ
شیعیت نیوز: سیکریٹری جنرل حزب اللہ لبنان سید حسن نصر اللہ نے، بیروت کے جنوبی نواح میں واقع امام حسن مجتبیٰ (علیہ السلام)، سینیئر کمانڈر شہید طالب سامی عبداللہ المعروف بہ "الحاج ابو طالب” کی یاد میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا:
میں ان تمام دوستوں، تحریکوں تنظیموں اور ممالک کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے حزب اللہ کے اس مجاہد کمانڈر کی شہادت پر ہمیں تعزیتی پیغامات ارسال کئے اور شہدائے راہ قدس کے اہل خانہ سے تعزیت کی۔
شہداء کے اہل خانہ کا موقف ـ رضامندی اور عزم و ارادے اور جانفشانی اور جانبازی جاری رکھنے کے حوالے سے ـ باعث و فخر و اعزاز ہے۔ شہادت، اسلامی فکر میں، اللہ کی جانب سے ہر اس شخص کے لئے برگزیدگی اور عظیم فلاح و رستگاری کی حیثیت رکھتی ہے، جو اسے حاصل کرتا ہے اور شہادت کے رتبے پر فائز ہوتا ہے۔
یقینا شہادت فنا نہیں ہے، شکست نہیں ہے اور موت نہیں ہے۔ شہادت مقاومتی محاذوں کی قوت کا سرمایہ ہے اور دشمن کو درپیش سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ ان میدانوں کے مجاہدین ایسے افکار اور ایمان سے لیس ہیں۔
مقاومت کی مجموعی فضا اسی ثقافت، ایمان اور صبر و استقامت سے مالامال ہے؛ چنانچہ پرچم ہمارے ہاتھ سے کبھی بھی نہیں گرتا، اور سستی، کمزوری اور ضعف ہمارے اندر رسوخ نہیں کرتا۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیلی جارحیت سے دنیا کے تمام غافل افراد کی آنکھیں کھلنی چاہئیں، سید حسن نصراللہ
الحاج ابو طالب سختیوں کے آگے سر تسلیم خم نہیں کرتے تھے
شہید الحاج ابو طالب ایک عام مجاہد کے طور پر سرگرم اول ہوئے، اور محنت، روحانیت اور اعلیٰ حوصلے کی بنا پر ترقی کی منازل تیزی سے طے کر لیں۔ وہ نوجوانی کے آغاز میں ہی صدیقین سیکٹر کے کمانڈر تھے، اور سنہ 1992ع میں ایک جہادی کمانڈر کے طور پر بوسنیا چلے گئے اور کئی برسوں تک اپنے اہل خانہ سے دور رہے۔
الحاج ابو طالب سنہ 2000ع سے قبل حزب اللہ کی کاروائیوں کے میں بنت جبیل کے محاذ کے کمانڈر رہے۔ بعدازاں سنہ 2016ع سے شہادت تک نصر یونٹ کے کمانڈر رہے۔
الحاج ابو طالب سختیوں کے باوجود بہت حوصلہ مند اور پرعزم تھے، مجاہد، شجاع اور باوقار تھے، سختیوں کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کرتے تھے، والا ہمت تھے اور حقیقتا مرد میدان اور جنگ کے آگلے مورچوں کے کے مجاہدین میں شمار ہوتے تھے۔
الحاج ابو طالب پہلے فیلڈ کمانڈر تھے جنہوں نے غزہ کی مدد کا محاذ کھول دیا اور اسی راہ میں جام شہادت نوش کر گئے۔
دشمن اپنے شمالی محاذ میں جانی نقصانات کا اعتراف نہیں کرتا!
لبنانی محاذ غزہ کی پشت پناہی کر رہا ہے، یہ محاذ صہیونی ریاست کے خلاف اپنی کاروائیاں جاری رکھتا ہے، دشمن کو مالی اور جانی نقصان پہنچاتا ہے اور اس پر نفسیاتی ضربیں لگاتا ہے، اور ہاں، یہ محاذ اس راہ میں شہیدوں کا نذرانہ بھی پیش کرتا ہے۔
لبنانی محاذ نے دشمن کو نقصان پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا ہے، اور ہماری کاروائیوں کی اثرگذاری اور کامیابی کا ایک نمایاں ترین ثبوت وہ چیخ و پکار اور وہ دھمکیاں ہیں جو دشمن کی طرف سے سنائی دے رہی ہیں۔
دشمن الجلیل پر حزب اللہ کے حملے سے خائف ہے، اور لبنان پر جنگ مسلط ہونے کی صورت میں الجلیل پر حملہ عین ممکن ہے۔ صہیونی ریاست اپنے شمالی محاذ میں جانی نقصانات کا اعتراف نہیں کرتا لیکن بزاروں صہیونی پناہ گزینوں کو پردہ راز میں رکھنا ممکن نہیں ہے۔ دشمن کی تسدیدی صلاحیت تقریبا تباہ ہو چکی ہے اور صہیونی فوج ایک شکست خوردہ، پٹی ہوئی اور بکھری ہوئی نظر آ رہی ہے۔
لبنانی مقاومت نے مقبوضہ فلسطین [پر قابض یہودیوں] کی صنعت، زراعت اور سیاحت کو تہہ و بالا کر دیا ہے۔ صہیونی ریاست پر لبنانی مقاومت دوسرے مزاحمتی محاذوں کا مشترکہ دباؤ جنگ بندی کے مذاکرات پر اثرانداز ہو رہا ہے۔
القدس شریف اور فلسطین پر قابض صہیونی مقبوضہ سرزمین کے شمالی محاذ میں اپنے نقصانات کو چھپا رہے ہیں تاکہ مزید دباؤ سے دوچار نہ ہوں۔ 42 نوآبادیاں [یہودی نوآبادکاروں کے شہر اور قصبے] مکمل طور پر خالی ہو چکے ہیں؛ اور ان کے علاوہ بھی بہت ساری نوآبادیاں ہیں جن میں زندگی کا نظام مکمل طور پر درہم برہم ہو چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی اخبار نے حزب اللہ لبنان کی فوجی طاقت کا اعتراف کر لیا
دنیا کے کے دو بڑے بحری بیڑے تزویراتی شکست کا شکار
غزہ پر صہیونی جارحیت کو آٹھ مہینے ہو چکے ہیں، اور آج دشمن، غاصب ریاست کی طرف آنے والے بحری جہازوں کی حفاظت کے سلسلے میں، اور یمنی مجاہدین کے مقابلے میں، امریکہ اور برطانیہ کی شکست کا اعتراف کر رہا ہے۔ یہ دنیا کے دو بڑے بحری بیڑوں کے لئے تزویراتی شکست ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ صہیونی دشمن نے، متعدد محاذوں کے مقابلے سے بے بس ہوکر، امریکہ اور برطانیہ کو یمن کے محاذ میں بھجوا دیا؛ اور یمنی محاذ نے اپنی کاروائیاں روکنے کے لئے آنے والے امریکیوں اور برطانویوں کی ناکامی اور بے بسی کو عیاں کر دیا۔
غزہ میں افسانوی جنگ جاری ہے
غزہ میں ایک افسانوی جنگ جاری ہے اور دشمن کو بھاری جانی نقصان کا سامنا ہے۔ باوجود اس کے کہ صہیونی غزہ پر بمباری کر رہے ہیں اور یہودی فوج کے کئی ڈویژن غزہ اور رفح میں موجود ہیں، لیکن وہ محصور رفح میں اپنی کاروائیاں مکمل کرنے میں شکست سے دوچار ہیں اور فلسطینی مقاومت نے ان کے دانت کٹھے کر دیئے ہیں۔
صہیونی دشمن کا دعویٰ ہے کہ اس نے حماس کی 20 یونٹوں کا صفایا کر دیا ہے اور اب وہ رفح میں باقیماندہ چار یونٹوں کی تباہی میں مصروف ہے، جبکہ یہ ایک جھوٹا دعویٰ ہے جو دشمن کی کمزوری اور بے بسی کو ظاہر کر رہا ہے، ایسا شکست خوردہ دشمن جو ایک وہمی کامیابی حاصل کرکے یہودی نوآبادکاروں کو دکھانے کے لئے بے چین ہے، اور آٹھ مہینوں کی جنگ میں ایک بھی خاطرخواہ کامیابی حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔
صہیونی دشمن غزہ (کے بعض علاقوں) سے پسپا ہو گیا اور اعتراف کیا کہ فلسطینی مقاومت نے غزہ کے تمام علاقوں میں اپنی جنگی صلاحیت دوبارہ حاصل کر لی ہے۔ اس حقیقت نے نیتن یاہو کے بیانیے کو خاک میں ملا دیا۔
حقیقت یہ ہے کہ دشمن جھوٹی اور جعلی کامیابیوں کے لئے بے چین ہے تاکہ وہ اپنے لوگوں سے کہہ سکے کہ وہ میدان جنگ میں کامیاب ہؤا ہے۔
دشمن کے ٹھکانوں پر حزب اللہ کے حملے جاری رہیں گے
صہیونی وزارت جنگ کہتی ہے کہ اسرائیلی فوج کے 8663 افسر اور جوان اپاہج ہو چکے ہیں، اور ہم پوچھتے ہیں کہ زخمی صہیونی فوجیوں کی تعداد کتنی ہے؟ دشمن نے لبنانی سرحدوں کے قریب بہت سی چھاؤنیوں اور فوجی اڈوں کو خالی کر دیا ہے۔ ہمارے مجاہدین نے سرحدوں پر واقع صہیونی چھاؤنیوں اور فوجی آڈوں کے بارے میں درست معلومات حاصل کر لی ہیں۔
ہم آج ایک بہت اہم تاریخی حقیقت کے شاہد ہیں جس کو غزہ اور مغربی کنارے کے فلسطینی عوام اور مجاہدین رقم کر رہے ہیں؛ اور صہیونی دشمن کو عظیم نقصانات سہنا پڑ رہے ہیں۔
آٹھ اکتوبر 2023ع کے بعد دشمن جان گیا کہ اس کے اڈوں اور چھاؤنیوں کو حملوں کا نشانہ بنایا جائے گا، اور ہمارے پاس صہیونیوں، ان کے اڈوں، فوجی استحکامات، مورچہ بندیوں، اسلحے و فوجی وسائل اور نفری کے بارے میں اچھی خاصی معلومات تھیں۔
ہم ایک معینہ پروگرام کے بارے میں دشمن کے ٹھکانوں پر حملے جاری رکھیں گے۔ علاوہ ازیں ہم دشمن کے فنی آلات، ریڈاروں، جاسوسی غباروں کو نشانہ بنا کر دشمن کو اندھا کر دینے کی حکمت عملی پر کاربند ہیں۔
جو انتظامات اور اقدامات ہم اپنی سرحدوں پر کر رہے ہیں، ان کی مثال دنیا میں کہیں بھی نہیں ملتی اور جو کچھ اکتوبر میں رونما ہؤا اس نے دشمن کو حیرت زدہ کر دیا۔
ہمارے پاس بہت زیادہ معلومات ہیں اور ہم نے کل [منگل 19 جون 2024ع کو] جو کچھ نشر کیا وہ اس کئی گھنٹوں پر مشتمل طویل ویڈیو کا ایک چھوٹا سا حصہ تھا جو حیفا شہر سے فلمایا گیا تھا۔
ہم ابھی تک اپنا بہت ہی کم اسلحہ استعمال کر کے لڑتے رہے ہیں، اور ہم نے اپنے ہتھیاروں کو ترقی دی ہے اور اس جنگ میں جدید اسلحہ استعمال کرتے رہے ہیں؛ ہمارے پاس بے شمار ڈرون طیارے ہیں اس لئے کہ ہم خود ہی ڈرون طیارے تیار کرتے ہیں۔ حال ہی میں ہم نے جدید اسلحہ حاصل کیا ہے جس کی نمائش میدان جنگ میں ہوگی۔
حزب اللہ کے ایک لاکھ سے زیادہ مجاہدین
ہمارے پاس زبردست انسانی قوت ہے جو بہت باہمت اور پرعزم ہے؛ اور ہمارے ہاں، ہمیں ایسے بھائیوں کا سامنا ہے جو کسی بھی قیمت پر میدان جنگ میں حاضر ہونا چاہتے ہیں، اور ہم محاذ کی ضرورت کی بنیاد پر انہیں میدان جنگ میں اترنے سے روکتے ہیں.
خطے میں مقاومتی تحریکوں کے کمانڈروں نے ہم سے رابطہ کیا اور نفری بھیجنے کی پیشکش کی تو ہم نے ان سے کہا: نہ صرف ہمارے پاس مجاہدین کی کافی تعداد موجود ہے بلکہ ان کی تعداد موجودہ جنگ کی ضرورت سے کہیں زیادہ ہے۔ ہمارے پاس ایک لاکھ سے زیادہ مجاہدین ہیں، اور لبنان میں، بدترین حالات میں بھی ہمارے پاس محاذ جنگ کی ضروریات سے زیادہ مجاہدین موجود اور ہر دم تیار ہیں۔
عوامی پشت پناہی مقاومت کی طاقت کا اہم ترین عنصر ہے۔ ہمارے عوام صابر اور با استقامت ہیں اور انھوں نے اپنے گھروں، سرمایوں، اور حتیٰ کہ اپنی اشیائے خورد و نوش مقاومت کے حوالے کر دیئے ہیں۔ ہمارے حامی عوام بدستور جمے ہوئے ہیں اور ہمارے لئے باعث فخر و اعزاز ہیں۔
حالیہ آٹھ مہینوں کے دوران جنگ کی دھمکی ہمیں خوفزدہ نہیں کرتی۔ کچھ لوگ جنگ کو امکان کو سنجیدہ لیتے ہیں، تاہم ہم نے اپنے آپ کو محاذ مزاحمت کے طو رپر بدترین حالات کے لئے تیار کر رکھا ہے، دشمن جانتا ہے کہ کونسی چیز اس کا انتظار کر رہی ہے، اور اسی چیز نے اسے جنگ چھیڑنے سے باز رکھا ہے۔
دشمن جانتا ہے کہ غاصب ریاست کا کوئی بھی نقطہ ہمارے میزائلوں اور ڈرون طیاروں کی زد سے محفوظ نہیں ہے۔ ہمارے حملے اندھادھند نہیں ہونگے بلکہ ہمارے پاس دشمن کی حدود میں اہداف (Targets) ایک حقیقی اور بڑا بینک موجود ہے، اور یہ اہداف ہماری دسترس میں ہیں؛ یہ وہ حقیقت ہے جو غاصب ریاست کی بنیادوں کو ہلا کر رکھے گی۔
یہ بھی پڑھیں: حزب اللہ کا جنوبی لبنان کے سرحدی علاقے میں اسرائیل کے فوجی اڈے پر حملہ
دشمن کو بحر و بر اور فضا میں ہمارا منتظر رہنا چاہئے
دشمن جانتا ہے کہ بحیرہ روم میں کونسی چیز اس کا انتظار کر رہی ہے، چنانچہ اسے بحر و بر اور فضا میں ہمارا منتظر رہنا چاہئے۔ اگر وہ ہم پر جنگ مسلط کرنا چاہے تو لامحدود انداز میں لڑیں گے اور کسی قاعدے قانون، یا مقررہ حد کو ہرگز ملحوظ نہیں رکھیں گے۔
اسلامی جمہوریہ ایران کے آپریشن "الوعد الصادق” کے وقت صہہیونی دشمن کو امریکہ، یورپ اور کچھ عرب ممالک کا سہارا لینا پڑا جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ ریاست اپنا دفاع کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی، اور اسلامی جمہوریہ ایران کی کاروائی اس حقیقت کا عینی ثبوت ہے جس کے دوران ـ صہیونیوں کو حاصل بین الاقوامی حمایت کے باوجود ـ ایرانی میزائل اور ڈرون طیارے مقبوضہ فلسطین تک آن پہنچے؛ تو آپ خود انداز لگائیں کہ اگر وہ ہم سے لڑنا چاہئے، تو صرف چند ہی کلومیٹر کے فاصلے کی اس لڑائی میں اس کا کیا حال ہوگا۔
ہم قبرص کو بھی خبردار کرتے ہیں، کہ وہ ہمارے دشمن کے ساتھ تعاون نہ کرے کیونکہ دشمن کو ہمارے خلاف لڑنے کے لئے ہوائی اڈے اور فوجی اڈوں کی فراہمی کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ قبرص بھی جنگ کا حصہ بنے گا!
جو لوگ ہمیں جنگ سے خوفزدہ کرنا چاہتے ہیں، میں ان سے کہتا ہوں کہ ہماری رائے کے مطابق، امریکہ دشمن ریاست پر خائف ہے، اور دشمن کو بھی خائف رہنا چاہئے؛ لیکن بہرحال غزہ کے ساتھ یکجہتی اور اس کی پشت پناہی کا یہ سلسلہ جاری رکھیں گے اور ہر قسم کے امکان و احتمال کا سامنا کرنے کے لئے بالکل تیار ہیں؛ کوئی چیز بھی ہمیں اپنے فرائض نبھانے سے باز نہیں رکھ سکتی، اگر مغرب کو راہ حل چاہئے تو بہت سادہ اور آسان راستہ یہ ہے کہ غزہ اور اس کے باشندوں کے خلاف جنگ بند کر دے۔
سید حسن نصر اللہ (حفظہ اللہ) نے آخر میں کہا: معرکۂ طوفان الاقصیٰ سنہ 1948ع کے بعد سے اب تک کی فلسطینی قوم نیز لبنانی قوم کی سب سے بڑی [دفاعی] جنگ ہے، جس کا مستقبل بہت روشن ہے، اور یہ جنگ خطے کا چہرہ بدل دے گی، اور مستقبل کو رقم کرے گی۔ ہم زور دے کر اعلان کرنا چاہتے ہیں کہ "ہمارا موقف مستحکم ہے، اور حتمی فتح تک اس تاریخی، انسانی اور اخلاقی موقف پر جمے رہنے پر تاکید کرتے ہیں”۔







