اہم ترین خبریںپاکستان
کالعدم لشکر جھنگوی میں دراڑ، احمد لدھیانوی، مسرور نواز جھنگوی اور معاویہ اعظم آمنے سامنے،خصوصی رپورٹ
لیکن ملک کے باشعور شہری جانتے ہیں کہ یہ سب ایک ہی تھالی کے چٹے بٹے دہشت گرد ہیں چاہے وہ لدھیانوی ہو، معاویہ اعظم ہو یا مسرور نواز جھنگوی ہو-

شیعیت نیوز: لاکھوں پاکستانیوں بشمول 50 ہزار سے زیادہ شیعہ مسلمانوں کی قاتل کالعدم دہشت گرد جماعت سپاہ صحابہ میں پارلیمنٹ پہنچنے کی ہوس کی وجہ سے کم از کم 3 دھڑے بندیاں باقاعدہ طور پر قائم ہو چکی ہیں-
جبکہ اس سے پہلے سپاہ صحابہ کے بانی راہنما ملعون حق نواز جھنگوی کے فرزند مسرور نواز جھنگوی کو بھی الیکشن 2018ء میں انتخابی ٹکٹ نہ ملنے پر کئے گئے احتجاج کی وجہ سے سپاہ صحابہ سے نکال دیا گیا تھا-
اور اب اس آنے والے الیکشن مؤرخہ 8 فروری میں بھی جھنگ شہر سے قومی اسمبلی کی ایک نشست اور صوبائی اسمبلی کی 2 نشستوں کے لئے سپاہ صحابہ کے پلیٹ فارم سے حصہ لینے کے جھگڑے میں اس کالعدم جماعت کے سربراہ احمد لدھیانوی
اور اسی جماعت کے سابق ممبر قومی اسمبلی اعظم طارق کے بیٹے معاویہ اعظم طارق آمنے سامنے کھڑے ہو چکے ہیں-
کالعدم جماعت کے سربراہ احمد لدھیانوی نے جھنگ شہر سے قومی اسمبلی کے حلقہ 109 اور صوبائی اسمبلی کے 2 حلقوں PP 127 اور PP 128 سے اپنے کاغذات نامزدگی داخل کروا دئیے ہیں
اور مؤقف اختیار کیا ہے کہ آنے والے انتخابات میں سابق ممبر صوبائی اسمبلی معاویہ اعظم کی پوزیشن درست نہیں
کیونکہ ان کی نامزدگی کو لے کر کالعدم جماعت کے بانی راہنما حق نواز جھنگوی کے فرزند مسرور نواز جھنگوی کا گروپ شدید اعتراضات رکھتا ہے
کیونکہ معاویہ اعظم کا نام فورتھ شیڈول میں بھی شامل کر دیا گیا ہے اور حکومت نے ان کے بنک اکاونٹس بھی منجمد کر دئیے ہیں-
اس لئے ضروری ہے کہ آنے والے انتخابات میں معاویہ اعظم حصہ نہ لیں
اور ان کی بجائے خود احمد لدھیانوی ان تینوں نشستوں پر انتخابات لڑ کر کامیابی حاصل کریں
اور بعد ازاں ایک نشست اپنے پاس رکھ کر دوسری دونوں نشستوں پر مسرور نواز جھنگوی اور کالعدم جماعت سپاہ صحابہ جھنگ کے ضلعی صدر عبد الخالق کو ضمنی انتخابات میں کامیاب کروا دیں-
دوسری طرف معاویہ اعظم گروپ کا کہنا ہے کہ (فرقہ ورانہ منافرت کے فروغ کا پیش خیمہ بننے والے) متنازعہ تحفظِ بنیادِ اسلام ایکٹ اور مذہبی و نصابی کتابوں کی اشاعت میں نگران بورڈ کے قیام جیسے فیصلوں کو
معاویہ اعظم طارق نے کلیدی کردار ادا کرتے ہوئے کسی بحث اور اسمبلی کے ایجنڈہ کے بغیر منظور کروا کر اہم ترین کارنامہ سر انجام دیا تھا
وگرنہ ایسے متنازعہ قوانین تو پچھلے 76 سالوں میں کالعدم سپاہ صحابہ اور مجلس احرار وغیرہ بھی منظور نہیں کروا سکیں تھیں-
اس لئے آنے والے انتخابات میں معاویہ اعظم کو دوبارہ منتخب کروایا جانا کالعدم جماعت سپاہ صحابہ کے مشن کی تکمیل کے لئے اشد ضروری ہے-
نیز معاویہ اعظم طارق گروپ نے انکشاف کیا ہے کہ احمد لدھیانوی پچھلے 4 انتخابات میں حصہ لے چکے ہیں۔
اور ہر دفعہ بری طرح شکست سے دوچار ہو چکے ہیں۔
جبکہ پچھلے انتخابات 2018ء سے چند ہفتے پہلے 14 مہینوں کی (خود ساختہ) گم شدگی کے بعد اچانک منظر عام پر آنے والے معاویہ اعظم نے صوبائی اسمبلی کی نشست واضح مارجن سے جیت کر اپنی کالعدم جماعت سپاہ صحابہ کو تحفہ میں دی تھی-
مزید برآں معاویہ اعظم طارق نے تحفظِ بنیادِ اسلام ایکٹ کی منظوری کے وقت مسلم لیگ (ق) کی قیادت کو (دھوکہ سے) اپنے ساتھ ملا کر ان متنازعہ ترین بلوں کو منظور کروانے
جیسا کارنامہ بھی سر انجام دے کر صوبائی اسمبلی میں اپنی رکنیت کا درست ثابت کر دکھایا تھا-
اس دوران معاویہ اعظم طارق گروپ کے لوگوں نے کالعدم جماعت سپاہ صحابہ کے سربراہ احمد لدھیانوی پر شدید ترین الزامات لگاتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے ملک بھر میں جماعت کے دہشت گرد کارکنوں کی بجائے اپنی پسند کے نا اہل لوگوں کو
عہدے داریاں بانٹ رکھی ہیں-
اسی بنیاد پر جب جماعت سے وابستہ دہشت گرد جب جماعت کی عدم فعالیت پر ان نامزدگیوں کے خلاف اعتراضات اٹھاتے ہیں تو لدھیانوی کے نامزد کئے ہوئے لوگ غلیظ ترین گالیاں دیتے ہوئے ان دہشت گردوں پر حملہ آور ہو کر انہیں جماعت کے اجلاسوں میں چپ کروا دیتے ہیں-
کالعدم دہشت گرد جماعت کے اجلاس میں ان گالم گلوچ کرنے والوں کی سربراہی جھنگ کے صدر عبد الخالق کرتے ہیں اور خود احمد لدھیانوی ان سب کے سرپرست ہیں-
اسی دوران معاویہ اعظم گروپ کے راہنماؤں نے احمد لدھیانوی پر یہ الزامات بھی لگائے ہیں کہ انہوں نے نگران وزیر اعلیٰ پنجاب محسن نقوی سے بھی ملاقات کی ہے۔
جو شیعہ فقہ سے تعلق رکھتے ہیں
اور لدھیانوی نے کاغذات نامزدگی داخل کروانے، مخالفین کے کاغذات پر اعتراضات کرنے یا مخالفین کی طرف سے خود پر لگے اعتراضات کا جواب دینے کے لئے جن وکلاء حضرات کو اپنی نامزدگی کے لئے منتخب کر رکھا ہے، وہ بھی شیعہ فقہ سے تعلق رکھتے ہیں
جبکہ کالعدم جماعت سپاہ صحابہ کی تمام تر سیاست کا محور صرف ان 2 نقاط پر مرتکز ہے کہ شیعہ فرقہ کو کافر قرار دلوایا جائے۔
اور اہل سنت کے سادہ لوح نوجوانوں کو ورغلا کر انہیں شیعوں کا قاتل بنایا جائے-
دوسری طرف اہم ترین ڈویلپمنٹ یہ ہے کہ ضلع جھنگ کے ریٹرنگ افسر کے سامنے احمد لدھیانوی کے وکلاء نے معاویہ اعظم کے کاغذات نامزدگی پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ معاویہ اعظم کے کاغذات مسترد کئے جائیں
کیونکہ ان کا نام فورتھ شیڈول میں شامل ہے۔
حکومت نے ان کے بنک اکاونٹس منجمد کر دئیے ہیں اور وہ کالعدم جماعت سپاہ صحابہ کے راہنما ہیں-
یہ بھی پڑھیں: کالعدم سپاہ صحابہ تقسیم کا شکار،معاویہ اعظم سیاست سے باہر ،تکفیریوں کی انتخابات میں بدترین شکست
احمد لدھیانوی نے ایک دوسری پارٹی "اہل سنت والجماعت” کا سربراہ ظاہر کرتے ہوئے بڑی چالاکی سے خود کو کالعدم سپاہ صحابہ سے الگ کرنے کی کوشش کی ہے
لیکن ملک کے باشعور شہری جانتے ہیں کہ یہ سب ایک ہی تھالی کے چٹے بٹے دہشت گرد ہیں چاہے وہ لدھیانوی ہو، معاویہ اعظم ہو یا مسرور نواز جھنگوی ہو-
ان کے شر سے کسی بھی امن پسند شہری اور محب وطن کو تحفظ نہیں ہے- ان تینوں گروپوں کی پشت پناہی اور سرپرستی میں ہماری لمبڑ ون کے مختلف افسران بالا شامل ہیں- ان سب کا صرف ایک ہی مقصد ہے کہ کسی بھی طرح اپنی کالعدم دہشت گرد
جماعت کو ملک کے سیاسی دھارے میں شامل کیا جائے اور ملکی امن و امان کو اپنی تکفیری اور منافرانہ سوچ سے تباہ و برباد کیا جا سکے-
یاد رکھئے گا کہ صرف احمد لدھیانوی، معاویہ اعظم طارق اور مسرور نواز جھنگوی ہی نہیں۔
بلکہ 8 فروری کے آنے والے ان انتخابات کے لئے ہزارہ برادری کے سینکڑوں مظلومین کے قاتل اور بے شمار بم دھماکوں میں ملوث داعش کا امیر رمضان مینگل نے بھی NA 264 سے انتخابات لڑنے کے لئے کاغذات داخل کروائے ہوئے ہیں-
اسی طرح اسلام آباد سے قومی اسمبلی کی نشستوں کے لئے سپاہ صحابہ کے 3 امیدواروں حافظ مظہر جاوید ایڈووکیٹ نے NA-46 سے، جمیل اختر نے NA-47 سے اور وقاص ستی نے NA-48 سے کاغذات جمع کروائے ہیں۔
جبکہ نون لیگ سے لشکر جھنگوی کا تربیت یافتہ عابد رضا کوٹلہ پچھلے 4 الیکشن گجرات سے قومی اسمبلی کی نشست پر جیت چکا ہے
اور چکوال سے حافظ عمار یاسر ق لیگ کے ٹکٹ پر ممبر صوبائی اسمبلی منتخب ہوا تھا۔
جس نے تحفظ ناموس صحابہ بل اور نصاب والے قانون کی پنجاب اسمبلی سے منظوری کروائی تھی-
یعنی قوم کو ان سب سے محتاط رہنا ہو گا اور یہ یقینی بنانا ہو گا کہ ان میں سے کوئی بھی قومی اسمبلی یا صوبائی اسمبلی کے لئے کامیاب نہ ہو سکے۔
کیونکہ ان دہشت گردوں کو پارلیمنٹ سے دور رکھ کر ان کی سرکوبی کے لئے قوانین بنوائے جانے بہت ضروری ہیں۔