علامہ ہاشم موسوی نے نگران وزیر اعظم سے کیا اہم مطالبہ کیا؟اندورنی کہانی سامنے آگئی
قاتلوں کی گرفتاری تک چین سے نہیں بیٹھیں گے

علامہ ہاشم موسوی نے نگران وزیر اعظم سے ملاقات کے بارے میں بتایا کہ میں نے انہیں بتایا کہ ہمارے کوئی تقریباً 2 ہزار سے زائد شہداء ہوئے ہیں، جن کے قاتلوں کے خلاف اب تک عدالتی سلسلے میں کوئی کارروائی نہیں ہوئی ۔
۔ ریاست کے ستون کے عنوان سے آپ کی ذمہ داری بنتی ہے، میں آپ کو متوجہ کروانا چاہتا ہوں
نگران وزیراعظم نے کسی کا نام لیا کہ ناصر رند یا نصیر رند کو ہم نے مارا ہے، میں نے کہا کہ ایک آدھ کو آپ لوگوں نے مار دیا بھی ہوگا
لیکن میرا اپنا بھتیجا سید جواد موسوی جو شہید ہوئے ہیں، شہید کے خاندان کی حیثیت سے مجھے نہیں پتہ کہ ان کا قاتل کون تھا اور کہاں ہے؟
، اس کو کوئی سزا ہوئی ہے یا نہیں ہوئی ہے تو اس دوران اس سلسلے میں ان کے پاس کوئی خاص جواب نہیں تھا۔
چونکہ قصاص ایک شرعی حکم ہے اور قصاص سے جو شہداء کی فیملی سے ان کو تشفی بھی ہو جاتی ہے۔ یعنی ایک جو غم ہے ان کے غم میں کمی بھی آجاتی ہے۔
لہٰذا یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ اس سلسلے میں اقدامات کرے، ریاست کو متوجہ کرنا ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:علامہ ہاشم موسوی کی نگران وزیر اعظم سے ملاقات،شیعہ ہزارہ کے تحفظات سے آگاہ کردیا
ہم انشاء اللہ متوجہ کرتے رہیں گے، امید ہے کہ انشاء اللہ ایک دن یہ اثر کرے۔
اگر ریاست نے توجہ نہ بھی دی تو شہداء کے خون کا تقاضہ ہم سے یہی ہے کہ ہم ان کے خون کے سلسلے میں ان کے قاتلوں کے حوالے سے آواز بلند کرتے رہیں۔
جب میں نے شہداء کے حوالے سے بات کی تو انہوں (نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ) نے ایک اپنا کارنامہ بتاتے ہوئے یہی کہا کہ ہم نے آپ کے لئے آزرگی پروگرام کا آغاز کیا ہے پی ٹی وی میں،
تو میں نے کہا کہ وہ اپنی جگہ پر لیکن ہمارے لئے جو اہم ہے وہ یہ ہے کہ ہمارے شہداء کے قاتل معلوم ہو جائے اور جو ہمارے قاتل تھے
ان کی جوڈیشری کاروائیاں ہونی چاہیئے، یہ عمل زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔