اسرائیل بھوک کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے، ہیومن رائٹس واچ

18 دسمبر, 2023 18:52

شیعیت نیوز:  نیوز ایجنسی کے مطابق انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے آج 18 دسمبر اپنی تازہ ترین رپورٹ میں واضح کیا ہے کہ اسرائیل کی غاصب صیہونی رژیم نے غزہ میں ہر قسم کی غذائی اشیاء کے داخلے پر پابندی لگا رکھی ہے جس کے نتیجے میں عام شہری کھانے پینے کی اشیاء کی شدید قلت سے روبرو ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل اہل غزہ پر بھوک مسلط کر کے اسے ایک جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے میں مصروف ہے اور اس مسئلے کو ایک جنگی جرم کی حد تک دیکھا جا سکتا ہے۔

ہیومن رائٹس واچ نے اپنی رپورٹ میں کہا: "اسرائیلی فوج جان بوجھ کر پانی، کھانے پینے کی اشیاء اور ایندھن غزہ کی پٹی میں جانے سے روک رہی ہے۔”

ہیومن رائٹس واچ کے اسرائیل اور فلسطین شعبے کے ڈائریکٹر عمر شاکر نے صحافیوں کو بتایا: "اسرائیل نے گذشتہ دو ماہ سے غزہ میں فلسطینی عوام کو کھانے پینے کی اشیاء اور پانی سے محروم کر رکھا ہے۔

یہ پالیسی ظاہر کرتی ہے کہ اسرائیل سویلین افراد کو بھوکا رکھ کر اسے ایک جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔”

یہ بھی پڑھیں:اسرائیل کا جانی نقصان بڑھنے لگا، افسر سمیت مزید 5 فوجی ہلاک

غاصب صیہونی رژیم کے جنگی طیاروں نے آج غزہ کی پٹی پر فوجی جارحیت کے 73 ویں دن غزہ کے شمال، مرکز اور جنوب کو فضائی حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔

غزہ کے شہر خان یونس خاص طور پر خان یونس کے مشرقی حصے میں اسرائیلی بمباری کی شدت زیادہ تھی۔ غزہ کے مرکز میں النصیرات کیمپ کی ایک رہائشی عمارت اسرائیلی بمباری کی زد میں آئی جس کے نتیجے میں 10 فلسطینی شہید ہو گئے۔

اسرائیل کی غاصب صیہونی رژیم نے اسی طرح تمام تر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ناصر اسپتال کو بھی جارحیت کا نشانہ بنایا جس میں توپ کا ایک گولہ اسپتال کے زچگی بچگی وارڈ پر آ گرا۔

اس حملے میں ایک فلسطینی خاتون شہید ہو جانے کی اطلاع ہے۔

غزہ کی وزارت صحت نے اب تک جنگ میں شہید اور زخمی ہونے والے افراد کی تعداد کے بارے میں تازہ ترین اعدادوشمار جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب تک 18 ہزار 787 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جبکہ زخمیوں کی تعداد 50 ہزار 897 ہے۔

11:51 شام مارچ 7, 2026
بریکنگ نیوز:
Scroll to Top