اہم ترین خبریںمقبوضہ فلسطین

فلسطینی قیدیوں کوموت کے بعدآزادی نصیب ناہوئی، لاشوں کی ڈیپ فریزر میں سزا گذاری

میڈیا رپورٹ کے مطابق قابض صیہونی انتظامیہ متعدد فلسطینی قیدیوں کی لاشیں بے نام قرار دے کر انہیں دفن کرچکی ہے اور قبروں پر نام کے بجائے ان کے نمبر رکھے گئے ہیں

شیعیت نیوز:  غاصب ریاست اسرائیل کی جانب سے غزہ پر کی گئی حالیہ جارحیت میں روا رکھا گیا وحشیانہ طرز عمل نئی بات نہیں، صیہونی فوج کی جانب سے فلسطینیوں کے خلاف انسانیت سوز کارروائیوں کا سلسلہ برسوں سے جاری ہے، یہاں تک کہ اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینی قیدِ زندگی سے تو رہا ہوجاتے ہیں تاہم ان کی میتوں کو رہائی نہیں ملتی۔ قابض صیہونی فوج کی جانب سے حالیہ جنگ کے دوران غزہ کے اسپتالوں، اسکولوں، پناہ گزین کیمپوں، ایمبولینسوں، مساجد، گرجا گھروں اور قبرستانوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ الجزیرہ نیوز نے صیہونی انتظامیہ کے ایک انتہائی ظالمانہ اور غیر انسانی سلوک کا انکشاف کیا ہے۔ اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینیوں کے حقوق کے حوالے سے کام کرنے والے ایک سماجی کارکن نے بتایا کہ اسرائیل نہ صرف زندہ فلسطینیوں کو قید کرتا ہے، بلکہ مرنے والوں کو بھی نہیں بخشتا۔

انہوں نے بتایا کہ وہ فلسطینی جو کہ اسرائیلی قید میں تشدد یا بیماری سے انتقال کر جاتے ہیں، ان کی لاشیں لواحقین کے حوالے کرنے یا دفن کرنے کے بجائے ریفریجریٹر میں رکھ دی جاتی ہیں، تاکہ بقیہ رہ جانے والی قید کی سزا ان کی لاشیں مکمل کرسکیں، اب تک 398 فلسطینی اسرائیلی جیلوں میں انتقال کرچکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صرف حالیہ کچھ عرصے میں 142 فلسطینی اسرائیلی جیلوں میں جان کی بازی ہار چکے ہیں جن میں سے اکثریت نوجوانوں اور بچوں کی ہے، ان کی لاشوں کو سزا پوری کرنے کے لیے ریفریجریٹر میں رکھا گیا ہے تاکہ لواحقین پر ذہنی تشدد کرکے انہیں اجتماعی سزا دی جاسکے، جب کہ یہ سلوک خصوصی طور پر فلسطینی قیدیوں کے ساتھ روا رکھا جاتا ہے، اسرائیلی یہودیوں کے لیے ایسا کوئی قانون نہیں۔

یہ بھی پڑھیں: تکفیری دہشت گردوں اور ریاستی سہولت کاروں کےظلم وبربریت کےشکار اہل پاراچنار کا مظلوم فلسطینی مسلمانوں کے حق میں عظیم الشان احتجاج

میڈیا رپورٹ کے مطابق قابض صیہونی انتظامیہ متعدد فلسطینی قیدیوں کی لاشیں بے نام قرار دے کر انہیں دفن کرچکی ہے اور قبروں پر نام کے بجائے ان کے نمبر رکھے گئے ہیں، ان میں سے بہت سی لاشیں ایسی ہیں جو 40 سال سے زیادہ عرصے سے وہاں موجود ہیں، گزشتہ سالوں میں قابض صیہونی انتظامیہ 260 سے زائد فلسطینی شہدا کو اپنے مخصوص قبرستان میں دفن کرچکی ہے۔ اسرائیلی قابض انتظامیہ کا یہ گھناؤنا جرم سالہاسال سے جاری ہے اور فلسطینی خاندان ہر سال 27 اگست کو اپنے پیاروں کی لاشیں واپس کرنے کے مطالبے کا ایک دن بھی مناتے ہیں۔ خیال رہے کہ جنیوا کنونشن کے تحت جنگ کے فریقین کو پابند کیا گیا ہےکہ وہ مخالفین کی لاشوں کی باعزت طریقے سے تدفین کریں گے اور جتنا ممکن ہو اس کے مذہب کے مطابق آخری رسومات پر عمل کریں گے، ان کی قبروں کی مناسب دیکھ بھال کے ساتھ اس طرح کا انتظام کیا جائے گا کہ ان کی ہمیشہ نشاندہی ہوسکے۔

متعلقہ مضامین

Back to top button