غزہ میں فلسطینی بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنایا، نیتن یاہو کا اعتراف

شیعیت نیوز: غاصب اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے غزہ میں فلسطینی بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانے کا اعتراف کیا ہے۔ دوسری طرف صہیونی حکومت امداد کے لئے ہاتھ پھیلانے پر مجبور ہوگئی۔
رپورٹ کے مطابق 7 اکتوبر کو حماس کی جانب سے طوفان الاقصی میں شدید نقصانات اور بین الاقوامی سطح پر خفت اور شرمندگی کا سامنا کرنے کے بعد صہیونی حکومت غزہ میں فلسطینی بے گناہ شہریوں کو حملوں کا نشانہ بنارہی ہے۔
تازہ ترین بیان میں وزیراعظم نیتن یاہو نے غزہ میں بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانے کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ غیر دفاعی تنصیبات کو کم نشانہ بنانے کی کوششوں کے باوجود غزہ میں شہریوں پر زیادہ حملہ کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت غزہ پر قبضہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے تاہم قبضے کے بعد غزہ کا دفاع ہمارے قبضے میں ہوگا تاکہ حماس جیسے گروہ وہاں وجود میں نہ آسکیں۔
یہ بھی پڑھیں : غزہ میں کمیونیکیشن بلیک آؤٹ ، اقوام متحدہ بھی امدادی سرگرمیاں روکنے پر مجبور
دوسری جانب صہیونی حکومت نے جنگ کے اخراجات پورا کرنے کے لئے بین الاقوامی اداروں سے بالاترین شرح سود کے ساتھ 6 ارب ڈالر قرضے کی درخواست کی ہے۔
الجزیرہ نےکہا ہے کہ صہیونی حکومت غزہ میں جاری جنگ کے اخراجات پورا کرنے کے لئے بیرونی اداروں سے 6 ارب ڈالر قرضہ لینے پر مجبور ہوگئی ہے۔
فنانشل ٹائمز کے مطابق اسرائیل نے بالاترین شرح سود کے ساتھ بین الاقوامی سرمایہ کاروں سے 6 ارب ڈالر قرضے کی درخواست کی ہے۔
مالی مشکلات کے باوجود صہیونی حکومت غزہ کے خلاف جنگ روکنے پر آمادہ نہیں ہے۔
صہیونی پارلیمنٹ کے نائب سربراہ نے انتہاپسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ کو آگ میں جلادو۔
ایکس پر ایک پیغام میں انہوں نے لکھا ہے کہ ہم غزہ میں صبر و تحمل سے کام لے رہے ہیں۔ مغویوں کی واپسی تک ان کو پانی اور دیگر ضروریات زندگی بندکرنا چاہئے۔
اس سے پہلے صہیونی وزیر ثقافت نے بھی غزہ پر ایٹمی حملے کا مطالبہ کیا تھا۔