مقبوضہ فلسطین

القسام بریگیڈز کا یرغمالیوں کو ہسپتالوں میں منتقل کرنے کے نیتن یاھو کےدعوے مسترد

شیعیت نیوز: اسلامی مزاحمتی تحریک (حماس) کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز نے اعلان کیا ہے کہ یرغمالیوں کو ہسپتالوں میں نہیں رکھا جا رہا ہے بلکہ ان میں سے کچھ کو ان کی حالت کی سنگینی کے پیش نظر علاج کے لیے نگہداشت کے مراکز میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

القسام بریگیڈز نے کہا کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو اور ان کی فوج کے ترجمان کے ہسپتالوں میں قیدیوں کی موجودگی کے بارے میں جھوٹ کے جواب میں بتاتے ہیں کہ ہم نے ان میں سے کئی کو علاج کے لیے ہسپتالوں کے نگہداشت کے مراکز میں منتقل کیا ہے۔

القسام بریگیڈز نے مزید کہا کہ ان میں سے ایک کو آئی سی یو لایا گیا اور صحت یابی کے بعد دوبارہ حراستی مقام منتقل کردیا گیا۔ حراست کے مقام کے اطراف میں مسلسل بمباری کی وجہ سے اس یرغمالی کی خوف و ہراس کی وجہ سے موت ہوگئی۔

یہ بھی پڑھیں : اسرائیلی طیاروں کی بلاطہ کیمپ میں بمباری ، 5 فلسطینی شہید

غزہ میں اسرائیل اور مسلح فلسطینی گروپوں کے درمیان جنگ آج ہفتے کو 43 ویں روز بھی جاری ہے۔ غزہ کی پٹی کے شہریوں کے مصائب کو دور کرنے کے لیے فوری جنگ بندی کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے۔ غزہ کی 23 لاکھ آبادی بے گھر ہوگئی ہے۔

نامہ نگار نے بتایا ہے کہ ایک راکٹ اور اس کے ٹکڑے تل ابیب کے جنوب میں کئی علاقوں میں گرے ہیں۔ القسام بریگیڈز نے اسرائیل کی جانب سے شہریوں کے قتل عام کے جواب میں تل ابیب پر راکٹ باری کی۔ راکٹ کے حوالے سے تل ابیب میں انتباہی سائرن بجتے رہے۔

غزہ کی پٹی پر لڑائی کے 42 ویں دن بھی صہیونی فوج نے فضائی بمباری کی۔ القسام نے بھی جواب میں عسقلان اور دیگر بستیوں پر راکٹ فائر کئے۔ راکٹوں کے کھلے علاقے میں گرنے کے امکانات بتائے گئے ہیں۔

اسرائیلی فوج کے ترجمان ادرئی اویچائی نے بتایا کہ اسرائیلی فورسز کے لڑاکا طیاروں نے غزہ کی پٹی کے اندر کئی اہداف پر بمباری کی ہے۔ اسی طرح زمینی فوجی دستوں نے تحریک اسلامی جہاد کے کمانڈر کے ٹھکانے پر کارروائی کی ہے۔ اس مقام پر سٹریٹجک جنگی ذرائع کی تیاری کی فیکٹری موجود تھی۔

فلسطینی ادارے نے بتایا کہ 42 دن کی جنگ میں اسرائیلی جارحیت میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 1200 ہوگئی ہے۔ شہدا میں 5000 بچے اور 3300 خواتین شامل ہیں۔

اسرائیل نے اب تک لگ بھگ 1270 بڑے حملے کئے ہیں۔ اس غارت گری میں 1800 بچوں سمیت 3750 فلسطینی لاپتہ ہوگئے ہیں۔ ان افراد کے متعلق خیال ہے کہ وہ تباہ ہونے والی عمارتوں کے ملبے تلے ہی دبے ہیں۔

متعلقہ مضامین

Back to top button