اسرائیل کے حق میں خبر لگانے پر فلسطین فاونڈیشن کے سربراہ نے رونامہ جنگ سے وضاحت طلب کرلی
شیعت نیوز: روزنامہ جنگ کی طرف سے مرکزی صفحہ پہ اسرائیل کے حق میں خبر شائع کرنے پہ فلسطین فاونڈیشن کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر صابر ابو مریم نے روزنامہ جنگ سے وضاحت طلب کرلی ۔
ابو مریم کا کہنا تھا کہ فلسطینیوں نے کبھی بھی اوسلو معاہدے میں غاصب صیہونی ریاست اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا بلکہ اسرائیل کو فلسطینی علاقوں پر قبضہ چھوڑنے کا کہا گیا تھا اور معاہدے کے تحت سنہ ۱۹۶۷ کی سرحدوں پر واپس جانے کا کہا گیا تھا لیکن غاصب صیہونی حکومت نے اس معاہدے پر نہ تو عمل کیا اور نہ ہی مقبوضہ علاقوں کو چھوڑا۔
اس معاہدے کو امریکی سرپرستی میں مکمل کیا گیا تھا۔ تاہم یہ معاہدہ کچھ عرصہ بعد ہی اسرائیلی جارحیت اور توسیع پسندانہ عزائم کی وجہ سے غیر مؤثر ہے۔
روزنامہ جنگ جیسے معروف اخبار میں کسی غیر معروف اور غیر مصدق اور درست معلومات سے عاری تبصرہ کی اشاعت سے ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ جنگ گروپ کے مالکان میر شکیل الرحمان، میر ابراھیم اور دیگر افراد پاکستان میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ کے لئے کوشاں ہیں۔
ہم جنگ گروپ کے مالکان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات اور اسرائیل کی ہمدردیوں پر مبنی مسلسل خبروں کی اشاعت سے متعلق اپنا موقف واضح کریں۔
قائد اعظم محمد علی جناح نے کہا تھا کہ اسرائیل ایک ناجائز ریاست ہے پاکستان کبھی تسلیم نہیں کرے گا۔ سوال یہ ہے کہ آخر جنگ گروپ جیسا ادارہ پاکستان میں اسرائیل سازی میں کس کی ایماء پر سرگرم ہے ؟







