"سعودیہ عرب کے بعد پاکستان کا اسرائیل کو تسلیم کرنے کا امکان”؟سینئر صحافی کے اہم انکشافات
شیعت نیوز:سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے عرب ٹی وی سے انٹرویو میں کہا کہ ہم ہرگزرتے دن کے ساتھ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی طرف بڑھ رہے ہیں۔
اسرائیلی وزیر خارجہ نے بیان کی تصدیق کرتے ہوئے کہا سعودیہ عرب جب اسرائیل کو تسلیم کرے گا توبعد میں 7مسلم ممالک بھی اسرائیل کو تسلیم کریں گے۔
اسرائیلی وزیر خارجہ کے بیان کے بعد پاکستان کے نگران وزیر خارجہ نے حیران کن بیان میں کہا کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کا فیصلہ کے بارے میں ہم ملکی مفاد کو پیش نظر رکھیں گے۔وزیر خارجہ کے بیان کے بعدردعمل میں سوشل میڈیا پہ پاکستان کے سینیر صحافیوں کے بیانات بھی سامنے آئے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ڈاکٹر صابر ابومریم کی پوسٹ کے جواب میں حامد میرنے کہا پاکستان کی کسی نگران حکومت کے پاس یہ اختیار نہیں کہ وہ مسئلہ فلسطین اور مسئلہ کشمیر پر کوئی ایسا مؤقف اختیار کرے جو اقوام متحدہ میں منظور کی گئی قراردادوں کے خلاف ہو۔پاکستان کے معروف اینکر پرسن سید امیر عباس نے کہا ہے کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کا کم سے کم نقصان یہ ہوگا کہ ہم کشمیر کا مقدمہ ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ہار جائیں گے۔
فلسطین فاونڈیشن کے سیکرٹری جنرل ابو مریم نے لکھا نگران حکومت کے وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے بھی اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں انتہائی کمزور موقف اختیار کیا اور اب نگران وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی بھی واضح موقف اختیار کرنے سے فرار کر گئے۔
سینئر صحافی عاصمہ شیرازی نے اپنے وی لاگ میں اہم انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ ایک انتہائی اہم شخصیت نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ ایک عرب ملک نے پاکستان کو کہا اسرائیل کوتسلیم کرلیں تو تمام مسائل حل ہوجائیں گے اگر تسلیم کرنے میں دیر کی توپھر فائدہ نہیں ہوگا۔عاصمہ شیرازی نے اپنے تجزیہ میں بتایا کہ اگر سعودیہ عرب نے اسرائیل کو تسلیم کیا تو اس کے اثرات پاکستان پر بھی ہوں گے عوامی رائے کو بدلنے کی کوشش کی جائے گی۔
پاکستان کے نگران وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی نے اپنے تازہ بیان میں کہا ہے کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں۔







