متنازعہ بل پاکستان کیلئے نقصان دہ ہے، سب فرقے اس کی زد میں ہوں گے، علامہ حافظ ریاض نجفی
شیعیت نیوز: وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے صدر علامہ حافظ سید ریاض حسین نجفی نے کہا ہے کہ قومی اسمبلی کے بعد سینٹ میں متنازعہ بل ”ناموس صحابہؓ، اہلبیتؑ و ازواج مطہرات“ عجلت میں پارلیمانی روایات کو روند کر پاس کرکے تکفیری عناصر اب خوشی کے شادیانے بجا رہے ہیں۔ اس متنازعہ بل کا نتیجہ یہ ہوگا کہ مجلس و عوامی محفل میں کوئی دشمنان اہلبیتؑ کا ذکر نہیں کر سکے گا۔ ابھی تازہ واقعہ میں ایک مقرر نے ”ہندا“ کا حضرت حمزہ کا کلیجہ چبانے کا ذکر کیا تو اس پر ایف آئی آر کاٹ دی گئی۔ اس بل سے نقصان پاکستان کا ہے جب یہ بل لاگو ہو گیا تو سب فرقے اس کی زد میں ہوں گے۔
جامع علی مسجد جامعتہ المنتظر ماڈل ٹاون میں خطبہ جمعہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا پاکستان کی بنیاد ”لا الہ الا للہ“ پر رکھی گئی تھی اور یہ قرآن کے عین مطابق ہے۔ سورہ آل عمران آیت 64 میں فرمان خداوندی ہے ”کہہ دیجیے اے اہل کتاب اس کلمہ کی طرف آ جاو جو ہمارے اور تمہارے درمیان مشترک ہے، وہ یہ کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں اور اس کے ساتھ کسی بھی چیز کو شریک نہ مانیں اور اللہ کے سوا آپس میں ایک دوسرے کو اپنا رب نہ بنائیں، پس اگر نہ مانیں تو ان سے کہہ دیجیے ؛ گواہ رہو ہم تو مسلم ہیں“۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تو قرآن بھی کہہ رہا ہے کہ ایک نقطہ پر اسلام کے زیر سایہ آ جائیں۔ سب سے اچھی بات یہ ہوگی کہ آپ داعی الی اللہ بنیں۔
یہ بھی پڑھیں:متنازعہ ناموس صحابہ واہل بیت بل کے خلاف شیعہ جماعتوں کا اسلام آباد میں مشترکہ احتجاج
انہوں نے کہا کہ اسلام کے اچھے عمل انجام دیں، جب آپ سے پوچھا جائے تو کہو میں مسلمانوں میں سے ایک مسلمان ہوں۔ سب سے پہلے اللہ و رسول ہونا چاہیے اعلیٰ درجے کی شخصیات (اہلبیتؑ) کیلئے محبت پیدا کریں اور جو حضرات پانچویں درجہ پر ہیں جنھوں نے واقعہ کربلا برپا کیا ان کی محبت زبر دستی ہمارے دلوں میں مت ڈالیں۔ انہوں نے کہا کہ آیئے اللہ، رسول و اہلبیتؑ کو اسوہ حسنہ بنائیں تاکہ نجات پا جائیں۔







