غزہ پر اسرائیلی حملوں میں انسانی حقوق کی پامالیوں کا ارتکاب ہے، یورو-میڈیٹیرینین

13 مئی, 2023 12:43

شیعیت نیوز: انسانی حقوق کی عالمی تنظیم یورو-میڈیٹیرینین ہیومن رائٹس مانیٹر نے اسرائیلی قابض فوج پرغزہ کی پٹی میں  بمباری کے دوران انسانی حقوق اور عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں کا الزام عائد کیا ہے۔

انسانی حقوق گروپ نے کہا ہے کہ کہا ہےکہ اسرائیلی قابض فوج نے غزہ کی پٹی پر اپنے مسلسل حملے میں متعدد شہریوں کو شہید کیا ہے۔ غزہ کی پٹی کی اہم بندرگاہوں کو بند کر دیا اور ادویات، طبی سامان سمیت انسانی امداد اور ایندھن کی سپلائی معطل ہوچکی ہے۔

جمعہ کو ایک پریس ریلیز میں، یورو-میڈیٹیرینین آبزرویٹری نے کہا کہ اس نے 12 مئی بروز جمعہ رات 8 بجے تک کم از کم 10 شہریوں کے قتل کی قابض فوج کو ذمہ دار قرار دیا۔ اسرائیلی فوج نے ان مقامات کو نشانہ بنایا جہاں وہ تھے۔

یہ بھی پڑھیں : ایران کا بنیادی نقطہ نظر اقوام متحدہ کے کے ساتھ تعمیری تعاون کو برقرار رکھنا ہے، کنعانی

یورو-میڈیٹیرینین مانیٹر نے اس بات کی تصدیق کی کہ قابض فوج اور اسرائیلی انٹیلی جنس سروسز کے پاس ایسے لوگوں کی نوعیت اور شناخت کا تعین کرنے کے لیے کافی جدید تکنیکی طریقے موجود ہیں جو اسرائیلی فضائیہ کے حملوں کے براہ راست اثرات کے دائرے میں آتے ہیں۔ ان میں سمارٹ گولہ بارود کا استعمال بھی شامل ہے۔

اس نے اشارہ کیا کہ اسرائیلی قابض فوج نےغزہ کی پٹی پر اپنے حملے میں بین الاقوامی انسانی قانون کے اصولوں اور قوانین کی کھلے عام خلاف ورزی کی ہے۔ نہتے بچوں اور خواتین کو شہید کیا جا رہا ہے اور گنجان آباد علاقوں میں وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار استعمال کیے جا رہے ہیں۔

خیال رہےکہ اسرائیلی فوج نے گذشتہ منگل کو غزہ کی پٹی پر جنگ مسلط کی تھی جس میں اب تک تیس سے زاید فلسطینی شہید اورایک سو سے زاید زخمی ہوچکے ہیں۔ شہداء اور زخمیوں میں زیادہ تر بچے اور خواتین شامل ہیں جبکہ اسرائیلی فوج اسلامی جہاد کی عسکری قیادت کو نشانہ بنا رہی ہے۔

8:09 شام مارچ 10, 2026
بریکنگ نیوز:
Scroll to Top