جوہری معاہدے کو بحال کرنے کا موقع ہمیشہ موجود نہیں، ایرانی نائب وزیر خارجہ

10 مئی, 2023 07:32

شیعیت نیوز: ایرانی نائب وزیر خارجہ باقری کنی نے کہا ہے کہ امریکہ نے پانچ سال قبل ایٹمی معاہدے سے نکل کر بین الاقوامی سطح پر قانون کی حکمرانی پر مہلک وار کیا۔

ارنا کی رپورٹ کے مطابق ایرانی نائب وزیر خارجہ اور سینیئر ایٹمی مذاکرات کارعلی باقری کنی نے ایٹمی معاہدے سے امریکہ کے نکل جانے کو پانچ سال کا عرصہ گزر جانے پر ایک ٹوئیٹ میں لکھا ہے کہ ایک ایسے وقت میں کہ جب ایران ایٹمی شعبے میں پہنچنے والے نقصانات کا ازالہ کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے، ایٹمی معاہدے پر مکمل عمل درآمد کی بحالی کہ جس کا بنیادی عنصر پابندیوں کا موثر اور مستقل خاتمہ ہے، اس وقت ممکن ہو گی کہ جب اس کی خلاف ورزی کرنے والا فریق مذاکرات کو حتمی شکل دینے کے لیے قابل اعتماد سیاسی عزم و ارادہ ظاہر کرے اور کوئی بھی موقع مستقل نہیں ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : غزہ پٹی میں فلسطینی شہداء کی تشییع جنازہ

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 8 مئی 2018 کو واشنگٹن کے وعدوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے یکطرفہ طور پر ایٹمی معاہدے سے نکلنے کا اعلان کیا تھا اور ایران کے خلاف دوبارہ غیرقانونی پابندیاں عائد کر دی تھیں۔

ایران نے ایک ذمہ دار ملک ہونے کی حیثیت سے بارہا اعلان کیا ہے کہ چونکہ امریکہ نے ایٹمی معاہدے کی خلاف ورزی کی تھی تو اسے پابندیوں کو ختم کر کے ایٹمی معاہدے میں واپس آنا چاہیے اور ضروری ہے کہ امریکہ کے وعددوں پر عمل درآمد کی سچائی کو جانچا جائے۔

درایں اثنا ایران کے خلاف غیرقانونی اور ظالمانہ پابندیوں کے خاتمے کے لیے ایران کی مذاکراتی ٹیم کی کوششوں سے مذاکرات کے کئی دور منعقد ہوئے لیکن امریکہ کی جوبائیڈن حکومت کی جانب سے گذشتہ امریکی حکومت کے غیرقانونی اقدامات کا ازالہ کرنے کے سلسلے میں لیت و لعل سے کام لینے اور ایران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کی پالیسی جاری رہنے سے امریکہ کی ایٹمی معاہدے میں واپسی کے سلسلے میں شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں اور مذاکرات کا عمل طویل ہو گیا ہے۔

5:39 شام مارچ 10, 2026
بریکنگ نیوز:
Scroll to Top