دنیا

امریکہ، جنوبی کوریا اور جاپان کی مشترکہ بحری مشقوں پر شمالی کوریا کا رد عمل

شیعیت نیوز: امریکہ، جنوبی کوریا اور جاپان ایک بار پھر فوجی بحری مشقیں کر رہے ہیں۔

جنوبی کوریا کی وزارت دفاع نے اعلان کیا ہے کہ یہ دو روزہ بحری مشقیں آج سے شروع ہوئی ہیں اور اس دوران جنوبی کوریا کے جے جو جزیرے کے اطراف میں آبدوزوں کو نشانہ بنانے والے ہتھیاروں کو آزمایا جائے گا۔

جنوبی کوریا کی وزارت دفاع کے اعلان میں ان بحری مشقوں کا اصل مقصد شمالی کوریا کے ایٹمی ہتھیاروں کا پتہ لگا کر ان کو تباہ کرنا قرار دیا گیا ہے۔

امریکہ، جنوبی کوریا اور جاپان نے گذشتہ ستمبر کے مہینے میں بھی آبدوزوں کو نشانہ بنانے کی مشقیں کی تھیں ۔

ادھر شمالی کوریا نے گذشتہ روز اعلان کیا کہ پیونگ یانگ کو امریکہ، جنوبی کوریا اور جاپان کی مشترکہ مشقوں کی جانب سے خطرہ محسوس ہو رہا ہے لہذا اگر ان مشقوں اور دیگر اشتعال انگیز اقدامات کو روکا نہ گیا اور شمالی کوریا کے انسدادی اقدامات موثر ثابت نہ ہوئے، تو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف ایٹمی ہتھیار کا استعمال ناگزیر ہوجائے گا۔

شمالی کوریا نے گذشتہ ہفتے ایک نئے اور چھوٹے ایٹمی وار ہیڈ کی رونمائی کے موقع پر اعلان کیا تھا کہ نئے ایٹمی ہتھیار بنانے کے لئے مزید جوہری ایندھن تیار کیا جائے گا۔

امریکہ، جنوبی کوریا اور جاپان کی اشتعال انگیز مشترکہ مشقوں کے پیش نظر شمالی کوریا اب تک کئی میزائلی تجربے بھی کر چکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : شام کے حوالے سے 4 فریقی اجلاس آج اور کل منعقد ہوگا، مولود چاووش اوغلو

دوسری جانب شمالی کوریا کی جانب سے امریکہ اور جنوبی کوریا کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال کرنے کی بے مثال دھمکی دی ہے۔

جزیرہ نما کوریا پر امریکہ اور جنوبی کوریا کے اشتعال انگیز اقدامات کے جواب میں شمالی کوریا نے اس بات پر زور دیا کہ اگر ہماری ڈیٹرنٹ فورسز کا کوئی اثر نہیں ہوتا تو ہم اپنے جوہری ہتھیاروں کو استعمال کرنا جانتے ہیں۔

شمالی کوریا نے جزیرہ نما کوریا میں امریکہ اور جنوبی کوریا کی فوجی مشقوں کو اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے سیئول اور واشنگٹن کو خبردار کیا ہے کہ وہ ایک جوہری طاقت سے مقابلہ کر رہے ہیں۔

ملک کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کی جانب سے شائع ہونے والے شمالی کوریا کے بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ اور اس کے سیٹلائٹ کو یاد رکھنا چاہیے کہ وہ جس حکومت کے ساتھ ہیں وہ حقیقی جوہری صلاحیتوں کی حامل جوہری طاقت ہے اور انھیں یہ جان لینا چاہیے کہ ہمارے عوام اور فوج صرف ایک جوہری طاقت ہیں، ہم صرف باتیں ہی نہیں کرتے۔

متعلقہ مضامین

Back to top button