فروری میں عباس ملیشیا کی طرف سے انسانی حقوق کی 247 خلاف ورزیاں

12 مارچ, 2023 14:29

شیعیت نیوز : مغربی کنارے میں سیاسی قیدیوں کے اہل خانہ پر مشمتل کمیٹی نے فروری کے مہینے میں شہریوں، طلباء، کارکنوں اور رہائی پانے والے قیدیوں کے خلاف عباس ملیشیا کی طرف سے انسانی حقوق کی 247 خلاف ورزیوں کا ارتکاب کیا گیا۔ ان انتقامی کارروائیوں میں گرفتاریاں، سمن، چھاپے، جبرو تشدد اور حملے شامل تھے۔

20/2/2023 کو فلسطینی اتھارٹی کی سکیورٹی سروسز عباس ملیشیا نے مغربی کنارے کے شہروں خصوصاً رام اللہ شہر کے داخلی راستوں پر بھاری نفری تعینات کی اور اساتذہ کو مرکزی دھرنے میں جانے سے روکنے کے لیے رکاوٹیں کھڑی کر دیں۔ اساتذہ کے ساتھ سابقہ معاہدوں پر عمل درآمد سے اشتیہ حکومت کے انحراف کے بعد اساتذہ کی تحریک کی طرف سے احتجاج کی کال دی گئی تھی تاہم اس احتجاج کو ناکام بنانا۔

یہ بھی پڑھیں : ایران کی پالیسی خطے میں استحکام اور سلامتی کو برقرار رکھنا ہے، ایرانی اسپیکر قالیباف

کارکنوں نے ایک وفد کے ذریعے عقبہ سربراہی اجلاس میں شرکت کے پس منظر میں اتھارٹی کے خلاف پرتشدد حملہ کیا جس میں اعلیٰ حکام بھی شامل تھے، کیونکہ کارکنان ’’عقبہ سربراہی اجلاس‘‘ کو شہداء کے خون سے غداری سمجھتے تھے اور اس کا مقصد مزاحمت کو ختم کرنا تھا۔ قابض صیہونی ریاست کے جرائم کے خلاف اس کے بڑھتے ہوئے شعلوں کو بجھانا ہے۔

بعض سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اوسلو معاہدے کے بعد عقبہ اجلاس فلسطینی عوام کے لیے سب سے خطرناک ہے۔

رام اللہ کے وسط میں مظاہرے ہوئے جن میں فلسطینی اتھارٹی کی عقبہ سربراہی اجلاس میں شرکت، قابض صیہونی ریاست کے ساتھ سکیورٹی تعاون کو مسترد کرنے اور فلسطینی عوام کے خلاف غداری کے سلسلے کو روکنے کے خلاف احتجاجی مظاہرے ہوئے۔

فلسطینی اتھارٹی کے ماتحت سکیورٹی اداروں کی طرف سے 73 گرفتاری واقعات،26 سمن،11 براہ راست حملے اور مار پیٹ کے کیسز ، 31 گھروں اور کام کی جگہوں پر چھاپے، 53 آزادیوں کو دبانے کےواقعات ، 12 اغوا کے واقعات35 صوابدیدی ٹرائل کے مقدمات اور دیگر خلاف ورزیاں شامل ہیں۔

7:05 صبح اپریل 28, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔