امریکہ ہی خطے میں مشکلات کی جڑ ہے،سابق عراقی وزیر اعظم عادل عبدالمہدی کی پاکستانی شیعہ سنی علماء سے گفتگو
شیعیت نیوز: عراق کے سابق وزیراعظم "عادل عبدالمہدی” نے کہا ہے کہ امریکہ، غیر ملکی تسلط کی مخالفت کرنے والی قوموں سمیت آزاد ممالک کی راہ میں روڑے اٹکاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں یقین ہے کہ خطے میں امریکی انخلاء سے ہی دیرپا استحکام وجود میں آئے گا۔ عادل عبدالمہدی نے ان خیالات کا اظہار پاکستان سے آئے ہوئے چالیس سنی علماء و مشائخ کے وفد سے بغداد میں ملاقات کے دوران کیا۔ اس وفد کی قیادت علامہ امین شہیدی کر رہے ہیں۔ سابق عراقی وزیراعظم نے پاکستان میں دہشت گردانہ حملوں اور تکفیری عناصر کی نقل و حرکت میں اضافے پر افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے عراق میں شیعہ مذہبی قیادت کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف جنگ اور اسلامی مقدسات کے دفاع کے لئے مزاحمتی بلاک کی تشکیل کے فتوے کا ذکر کیا۔ عادل عبدالمہدی نے مزید کہا کہ مرجع تقلید کے حکم کے مطابق ہم اسلامی مذاہب کے درمیان دوستی اور بھائی چارے کی حمایت کرتے ہیں۔ نیز اسی حوالے میں ہم اہل تسنن کو اپنا بھائی اور دو جسم و یک جان سمجھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ریاستی اداروں کا چہیتا دہشتگرد معاویہ اعظم شیڈول فور میں ہونے کے باوجود یورپ کی سیر میں مصروف
عادل عبدالمہدی نے اسلامی ممالک کے معاملات میں امریکی مداخلت کو سخت ناپسند کیا، جبکہ پاکستان و عراق میں سیاہ دور کو امریکہ کی مرہون منت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے عراق سے امریکی فوجیوں کے انخلاء کے لئے عراقی پارلیمنٹ میں ایک قرارداد منظور کی ہے، کیونکہ ہمارا ماننا ہے کہ خطے میں امن و استحکام امریکی انخلاء سے جڑا ہے۔ سابق عراقی وزیراعظم نے پاکستان میں اسلامی مذاہب کے رہنماؤں کے حقیقت پسندانہ انداز فکر کو سراہا، نیز دونوں ممالک کے علماء و مشائخ کو ایک دوسرے کے قریب لانے کے لیے امت واحدہ پاکستان کے اقدامات کی قدردانی کی۔ انہوں نے کہا کہ ہم فلسطین کی آزادی کے حامی ہیں اور ایران و شام پر عالمی پابندیوں کی مخالفت کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر اسلامی ممالک کی معیشتیں مستحکم ہو جائیں تو ہم پر غیر ملکی فیصلے اثر انداز نہیں ہوسکتے۔ واضح رہے امت واحدہ پاکستان کے چالیس رکنی وفد نے اسلامی جمہوریہ ایران کا دورہ کرنے کے بعد عراق کا سفر کیا، جہاں انہوں نے عراق کی برجستہ شخصیات بشمول مجلس اعلاء کے سربراہ اور حکمت ملی عراق کے سربراہ "سید عمار الحکیم” سے ملاقات کی۔







