ہمیں کمزور سمجھنے والے خوش فہمی کا شکار ہیں، بل کے محرک کالعدم تنظیم کے ہاتھوں استعمال ہوئے ہیں،علامہ مرید نقوی
شیعیت نیوز: وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے نائب صدر علامہ سید مرید حسین نقوی نے حال ہی میں قومی اسمبلی سے منظور ہونیوالے متنازعہ فوجداری بل کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ قرآن و سنت کے منافی کسی قسم کی قانون سازی قبول نہیں کریں گے۔ مکتب اہلبیت اسلام کی روشن تعبیر کا نام ہے۔ ہمیں کمزور سمجھنے والے خوش فہمی کا شکار ہیں، بل کے محرک کالعدم تنظیم کے ہاتھوں استعمال ہوئے ہیں، ہم جانتے ہیں کہ جماعت اسلامی فرقہ وارانہ تکفیری تنظیم نہیں ہے، حیرت ہے جماعت اسلامی کے رکن نے جھنگ کے تکفیری کالعدم گروہ کا تیار کردہ بل اسمبلی میں پیش کیا اور اتحاد امت کو کمزور کرنے کا باعث بنے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دراصل پنجاب اسمبلی میں متنازعہ بنیاد اسلام بل کی ناکامی کے بعد دشمن نے نئی سازش کے تحت ایک بار دھوکے سے بل منظور کروانے کی کوشش کی ہے، جو ان شاءاللہ گزشتہ متنازعہ بل کی طرح ناکام ہوگی۔ متنازعہ قانون سازی کی ہرگز اجازت نہیں دیں گے، گزشتہ 3 سال کی ایف آئی آرز کا ریکارڈ بتا رہا ہے کہ محض دشمنی میں متعدد جھوٹی ایف آئی آرز درج کی گئیں جبکہ اس سے پہلے مکتب اہل بیت ؑکو قتل و غارت گری سے ڈرانے کی کوشش کی گئی مگر اس گروہ کے سرغنے اور کارندے اب کہیں نظر نہیں آ رہے، مکتب اہلبیتؑ اپنی آب و تاب کیساتھ موجود ہے اور ترقی کر رہا ہے۔ اس کالعدم تکفیری گروہ کا کوئی نام لیوا نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بلی تھیلے سے باہرآگئی! عبدالاکبرچترالی کو فتنہ پرور بل کس نے بناکردیا؟دشمنِ اہل بیتؑ اورنگزیب فاروقی نے اقرارکرلیا
جامعتہ المنتظر میں علما اور طلباء سے گفتگو کرتے ہوئے علامہ مرید نقوی نے افسوس کا اظہار کیا کہ جماعت اسلامی کا اب تک کا ریکارڈ غیر فرقہ وارانہ ہے، ہماری قیادت کیساتھ ان کے روابط ہیں۔ وہ ہمارے پاس آتے رہتے ہیں اور ہم ان کے پاس جاتے رہتے ہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ متنازع بل جماعت اسلامی کا موقف نہیں ہوگا۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ قومی اسمبلی میں اراکین قانون سازی کو پڑھتے نہیں ہیں، پہلے بھی ٹرانسجینڈر بل، ختم نبوت کے حلف نامے کے حوالے سے قانون سازی سمیت دیگر کئی مقامات پر واضح ہو چکا ہے کہ ارکان اسمبلی کو پتہ نہیں ہوتا اور وہ اس کی حمایت میں ووٹ دے دیتے ہیں۔ انہوں نے تشویش کا اظہار کیا کہ متنازعہ فوجداری بل کے معاشرے پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ کوئی شیعہ توہین صحابہ نہیں کر سکتا اور ہم سمجھتے ہیں کہ کوئی سنی بھی توہین اہلبیتؑ نہیں کر سکتا۔
نائب صدر وفاق المدارس نے کہا اگر کسی قسم کی قانون سازی کی ضرورت ہے تو مکتب اہلبیت کی قیادت کو اعتماد میں لیا جائے، جب تک مکتب تشیع کی نمائندہ قیادت کو اعتماد میں نہیں لیا جاتا، معاملات آگے نہیں بڑھ سکتے۔ ملت جعفریہ کو اعتماد میں لئے بغیر کسی قسم کی قانون سازی کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔ ان کا کہناتھا کہ انتہا پسند دونوں مکاتب فکر میں موجود ہیں۔ ہم اہلسنت کے مقدسات کا احترام کرتے ہیں، لیکن قرآن مجید کے منافی کسی قسم کی قانون سازی کی اجازت نہیں دیں گے۔ صحابہ اور اہلبیت کی توہین کرنیوالے دشمن کے آلہ کار اور ایجنٹ ہیں۔







