جنین: فلسطینی مزاحمت کاروں کے حملے میں ایک اسرائیلی فوجی زخمی

06 جنوری, 2023 13:58

شیعیت نیوز: صیہونی قابض فوج نے کل صبح اعتراف کیا ہے کہ جنین میں فلسطینی مزاحمت کاروں کے ساتھ جھڑپوں کے دوران اس کا ایک فوجی شدید زخمی ہوا ہے۔

صیہونی قابض فوج کے ترجمان نے ایک مختصر بیان میں کہا کہ جنین کے علاقے قباطیہ میں فلسطینیوں کے ساتھ مسلح جھڑپوں کے دوران ایک اسرائیلی فوجی زخمی ہوا۔

تفصیلات میں عبرانی چینل 7 نے اشارہ کیا کہ صیہونی قابض فوج کی جانب سے قباطیہ میں ’’مطلوب‘‘ قرار دیے گئے افراد کی گرفتاری کے لیے کیے گئے آپریشن کے دوران زخمی ہوا۔ صیہونی قابض فوج کا کہنا تھا کہ فوجی اہلکار کو قصبے میں گولیوں کا نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں فوجی زخمی ہوا۔ زخمی اہلکار کو اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔

چینل نے دعویٰ کیا کہ ایک فلسطینی مزاحمت کاروں نے قصبے میں ایک فوجی کے ہتھیار کو اپنے کنٹرول میں لینے کی کوشش کی۔ فوجیوں نے اسے گولی مار کر زخمی کر دیا۔

صیہونی قابض فوج نے کل صبح قباطیہ قصبے پر دھاوا بول دیا اور ایک مکان کو گھیرے میں لے لیا جس کے نتیجے میں پرتشدد تصادم اور جھڑپیں شروع ہو گئیں۔

ان میں سے ایک نوجوان کو کندھے اور پاؤں میں گولی لگی اور زمین پر گرنے کے بعد اسے اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔

صیہونی قابض فوج نے مروہ یاسر خزامیہ، محمد محمود لطفی ابو الرب اور عبداللہ ابووعر کو گرفتار کر لیا۔

یہ بھی پڑھیں : غرب اردن میں اسرائیلی فوجی ٹھکانوں پر عرین الاسود مزاحمتی گروہ کے جوابی حملے

دوسری جانب اسرائیلی قابض حکام نے آج طویل عرصے تک قید رہنے والے فلسطینی قیدی کریم یونس کو رہا کردیا۔

کریم یونس کو 40 سال قید کی سزا مکمل کرنے پر ھداریم جیل سے رہا کیا گیاہے۔

کریم یونس کو اسرائیلی حکام نے رعنانا شہر میں چھوڑا ہے۔ اہلِ خانہ سمیت کسی  کو رہائی سے متعلق مطلع نہیں کیا گیاتاکہ متوقع استقبالیہ کا موقع تک نہ مل سکے۔

رہائی کے بعد یونس  اپنے بھائیوں سے رابطہ کرنے میں کامیاب ہو گئے، جو انہیں  اپنے آبائی شہر عارہ لے گئے ہیں۔

1983 میں یونس کو سزائے موت سنائی گئی جو بعد میں عمر قید میں تبدیل کر دی گئی۔ بعد ازاں سزا کو  کم کر کے 40 سال کر دیا گیا۔

رہا ہونے کے بعد جناب یونس کریم  نے کہا کہ ہم فلسطین کی آزادی کے لیے مزید قربانیاں دینے کو بھی ہر لمحہ تیار ہیں۔

12:58 صبح مارچ 10, 2026
بریکنگ نیوز:
Scroll to Top