’گولیوں کی بوچھاڑ میں موت قبول ہے‘، شہادت سے قبل شہید النعسان کا آخری پیغام
شیعیت نیوز: گذشتہ روز اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے شہید ہونے والے 21 سالہ رائد النعسان نے اپنے فیس بک پیج پر اپنی شہادت سے قبل ایک پیغام لکھا جس میں انہوں نے حالیہ القدس آپریشن پر فخر کا اظہار کیا۔
النعسان نے آپریشن کے بعد کہا کہ "تم نے اسے دیکھا، تم نے اسے دیکھا۔ وہ ہمارے درمیان اکیلی پڑی تھی۔ اے خریدار کے ڈرائیور۔ تم نے کیا کیا۔ تو نے مجھے چھوڑ دیا۔ وہ ہمارے غم میں کھڑا ہے” میں آپ کو بیکار دیکھ رہا ہوں۔ القدس میں آپ کے علاوہ القدس میں کون ہے؟
اپنے صفحہ کے تعارف میں انہوں نے لکھا کہ "فطری موت سے بچو اور گولیوں کی بارش کے علاوہ نہ مرو۔
ایک اور پوسٹ میں رفیق دربہ نے شہید احمد العابد کے لیے سوگ کا اظہار کیا جو تقریباً دو ماہ قبل قابض افواج کے خلاف فائرنگ کے حملے میں شہید ہو گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں : پشاور میں داعش آگئی کی وال چاکنگ ، کسی بڑی دہشت گردی کا خطرہ
دوسری جانب فلسطین کے علاقے غرب اردن کے شمالی شہر جنین میں اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے شہید ہونے والے نوجوان محمد توفیق بدرانہ کی نماز جنازہ ادا کرنے کے بعد انہیں سپرد خاک کردیا گیا۔ چھبیس سالہ بدرانہ کی نماز جنازہ میں شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
جنین کے سرکاری اسپتال سےشہید کے جنازے کا جلوس نکلا جو جنین کے یعبد قصبے میں شہید کے اہل خانہ کے گھر روانہ ہوا۔ وہاں شہید کا آخری دیدارکرایا گیا اور محلے کی مسجد کے صحن میں نماز جنازہ کی ادائی کے بعد شہید کو آ بائی قبرستان میں سپرد خاک کردیا گیا۔
جنازے کے دوران نوجوانوں نے اللہ اکبر کے نعرے لگائے۔ نوجوان سخت مشتعل اور غصے میں تھےاور انہوں نے اسرائیلی دشمن کے خلاف انتقام انتقام کے نعرے اور فلسطینی مزاحمت کی حمایت میں نعرے بازی کی۔
سوگواروں نے مزاحمتی کمانڈر محمد ضیف کو سلام پیش کیا اوران کی حمایت میں نعرے لگائے۔
نوجوان محمد بدرانہ جنین کے جنوب مغرب میں واقع قصبے یعبد میں قابض فوج کی فائرنگ میں زخمی ہونے کے بعد دم توڑ گئے تھے۔
طبی ذرائع نے بتایا کہ بدرانہ نامی نوجوان کو سینے میں کئی گولیاں لگیں، جس کے بعد اسے جنین کے ابن سینا اسپتال لے جایا گیا، جہاں بعد میں اس کی موت کی تصدیق کردی گئی۔







