عراقی امور میں امریکی مداخلت، عراقی وزیراعظم السودانی کا امریکی سفیر کو سخت انتباہ
شیعیت نیوز: عراقی وزیراعظم السودانی نے اپنے ملک کے سیاسی و سماجی مسائل میں مداخلت کرنے پر بغداد میں امریکی سفیر کو سخت متنبہ کیا ہے۔
السبق کی رپورٹ کے مطابق عراق کی شیعہ کوآرڈینیشن کے رکن عائد الہلالی نے عراق کے سیاسی و سماجی مسائل میں امریکہ کی مسلسل جاری مداخلت پرعراقی وزیراعظم السودانی کے امریکی سفیر کو سخت خبردار کئے جانے کی خبر دی ہے۔
انھوں نے کہا ہے کہ السودانی نے امریکی سفیر سے صاف الفاظ میں کہا ہے کہ عراق کے مسائل میں مداخلت کرنے سے باز آجائیں اور صرف تجارتی و اقتصادی تعاون اور بعض فوجی سمجھوتوں پر عمل کروانے کی کوشش کریں۔
عراق میں داعش کے خلاف مہم کے بہانے امریکی فوجی موجودگی کو ختم کئے جانے اور اسی طرح سے عراق سے امریکہ کے فوجی انخلا کے بارے میں عراقی پارلیمنٹ کے فیصلے پر عمل درآمد کے بارے میں بغداد اور واشنگٹن کے درمیان کئی دور کے پیچیدہ ترین مذاکرات کے باوجود امریکہ عراق میں بلاسبب اپنی فوجی موجودگی جاری رکھے ہوئے ہے جبکہ عراقی عوام اور مختلف عراقی گروہوں نے بھی اس موجودگی پر بارہا اپنی شدید مخالفت کا اعلان کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : پاکستان کی میں سیاسی و معاشی استحکام فقط فوری شفاف انتخابات میں مضمر ہے، علامہ راجہ ناصرعباس
دوسری جانب ایک روسی اہلکار نے اعلان کیا کہ عراق اور روس جوہری توانائی کے پرامن استعمال کے حوالے سے تعاون کی ایک یادداشت پر دستخط کرنے کے خواہاں ہیں۔
تقریب خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، عراق میں روسی سفارتخانے کے اقتصادی مشیر الیا لوبوف نے کہا کہ ماسکو اور بغداد جوہری تعاون کے حوالے سے ایک مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کرنے کی تیاری کر رہے ہیں، اور یہ مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے جائیں گے۔ جوہری ٹیکنالوجی کے پرامن استعمال پر ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عراق روسی جوہری توانائی کو خصوصی اہمیت دیتا ہے اور دونوں فریقین نے 1975 میں طے پانے والے معاہدے کے فریم ورک کے اندر اس شعبے میں تعاون کے لیے مذاکرات دوبارہ شروع کیے ہیں۔
اس روسی اہلکار نے یہ بھی نوٹ کیا کہ روس ایٹم کمپنی اور عراقی ریڈیو ایکٹیو میٹریلز کنٹرول آرگنائزیشن ریسرچ ری ایکٹرز کے میدان میں چھوٹے منصوبوں پر عمل درآمد کے امکان کی چھان بین کر رہے ہیں۔
بغداد میں ماسکو ایمبیسی کے اکنامک کونسلر نے کہا کہ عراق اور روس بجلی کے علاوہ ادویات، زراعت اور پانی کو صاف کرنے جیسے شعبوں میں جوہری ٹیکنالوجی کے استعمال پر غور کر رہے ہیں۔







