عالمِ اسلام اور عرب لیگ مسجدِ اقصیٰ کے دفاع کی ذمہ داری پوری کرے، سربراہ العاروری
شیعیت نیوز: اسلامی مزاحمتی تحریک حماس کے سیاسی شعبے کے نائب سربراہ صالح العاروری نے کہا ہے اسرائیل قابض اتھارٹی مسجد اقصیٰ کی شناخت تبدیل کرنے کی زبردست کوشش کر رہی ہے۔ اسی غرض کے لیے وقتی تقسیم کا راستہ لیا جا رہا ہے۔ صالح العاروری نے ان خیالات کا اظہار ٹی وی خطاب میں کیا ہے۔
نائب سربراہ العاروری نے کہا دنیا بھر میں بسنے والے مسلمانوں، اسلامی تعاون کی تنظیموں اور عرب لیگ کو مسجد اقصیٰ کے دفاع کے لیے اپنی ذمہ داری ادا کرنے کے لیے آگے آنا چاہیے۔
حماس کے رہنما نے زور دے کر کہا ‘ تمام فرقوں، تحریکوں، علما، دانشوروں ، مختلف شعبوں سے تعلق سے رکھنے والے پیشہ ور افراد اور لکھنے والوں کو اس سلسلے میں عوامی سطح پر آگاہی پھیلانے کے لیے بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ تاکہ سب مسلمانوں کو مسجد اقصیٰ کے حوالے سے اپنی ذمہ داری کی طرف متوجہ کر سکیں۔
الجزائر کی طرف سے فلسطینی گروپوں کے مشترکہ اجلاس بلانے سے متعلق حماس رہنما نے کہا ‘ حماس فلسطینیوں کے باہمی اختلافات کے خاتمے کے لیے ہر کوشش کو اہم سمجھتی ہے۔
نائب سربراہ العاروری نے الجیریا کی طرف سے اسرائیل کے خلاف فلسطینیوں کی حمایت اور فلسطینی اتحاد کے لیے کوششوں کی تحسین کی ۔
روس کے ساتھ تعلقات کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ اس کے ساتھ ہمارے بہت پرانے تعلقات ہیں اور روس حماس کو فلسطینی آزادی کی تحریک تسلیم کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : اسرائیل کے بھاری ہتھیاروں کی شمالی غرب اردن منتقلی
دوسری جانب حماس نے فلسطینی عوام کی طرف سے اسرائیلی گاڑیوں بشمول یہودی آباد کاروں کی بس کو نشانہ بنائے جانے پر خوشی ظاہر کی ہے اور کہا ہے فلسطینی عوام ایک بڑے انقلاب کی قیادت کر رہے ہیں۔ یہ سلسلہ اس وقت جاری رہے گا جب تک عوام اپنے اہداف حاصل نہیں کر لیتے ۔
حماس کے ترجمان حازم قاسم نے کہا اس جدو جہد کا ایک ہی مقصد ہے کہ سرزمین فلسطین سے اسرائیلی قبضہ ختم ہو اور ناجائز یہودی بستیوں کے ذریعے مسلط کیے یہودی آباد کاروں کو واپس بھیجا جائے۔
ترجمان حماس نے اپنے بیان میں کہا ‘ نابلس آپریشن مسجد اقصیٰ پر یہودی آباد کاروں کے دھاوا بولنے کا فطری رد عمل ہے ، ہم سمجھتے ہیں کہ قابض اتھارٹی کی طرف سے ایسی ناپاک سازشوں پر ردعمل آتا رہے گا۔
ہم فلسطینی مسلمان مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی اور شناخت تبدیل کرنے کی چالیں قبول نہیں کر سکتے۔ دریں اثنا معلوم ہوا ہے کہ نابلس کے علاقے میں فلسطینی شوٹنگ آپریشن کے دوران ایک یہودی آباد کار زخمی ہوا ہے۔







