ہمیں امریکی مدد ملی، لیکن مالیاتی خسارہ برقرارہے، یو این آر ڈبلیو اے
شیعیت نیوز: یو این ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی برائے فلسطینی پناہ گزین ( یو این آر ڈبلیو اے ) نے ہفتے کے روز اعلان کیا ہےکہ امریکہ نے اسے اپنے ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی پر پڑنے والے مالیاتی خسارے کے اثرات کے انتباہ کے درمیان اسے 64 ملین ڈالر کی نئی مالی امداد فراہم کی ہے۔ یہ انداد اگلے دو مہینوں میں ادا کی جائے گی۔
یو این آر ڈبلیو اے کے میڈیا ایڈوائزر عدنان ابو حسنہ نے کہا کہ نئی امریکی امداد بہت اہم ہےاور مالیاتی خسارے کے کچھ حصے کو پورا کرنے میں معاون ثابت ہوگی تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ خسارہ ایجنسی کے بجٹ میں رہے گا۔
ابو حسنہ نے قدس پریس کو بتایا کہ ’’مالی خسارہ تقریباً 100 ملین ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔ اگر یہ جاری رہا تو اس کے منفی اثرات ہوں گے، کیونکہ اس میں تنخواہوں کے علاوہ اونروا کے آپریٹنگ اخراجات بھی شامل ہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھیں : اردن کے سابق وزیر اعظم الروابدہ کا حماس کے ساتھ تعلقات معمول پرلانے کا مطالبہ
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ’’ایجنسی کا مالیاتی بحران آنے والے مہینوں میں واضح طور پر ظاہر ہو گا‘‘ خسارہ پیچیدہ ہو گیا ہے اور ایجنسی کو عطیہ دینے والے ملک میں سیاسی تبدیلیوں کا زیادہ خطرہ ہے، جو اس کی طرف سے دی جانے والی امداد کو متاثر کرتی ہے۔
یو این آر ڈبلیو اے کے میڈیا ایڈوائزر نے اشارہ کیا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاسوں کے موقع پر ایک وزارتی اجلاس ہے، جو اگلے چند دنوں میں نیویارک میں منعقد ہوگا۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ میٹنگ اہم ہے۔اونرواکے کمشنر جنرل مالیاتی خسارے اور ایجنسی کو ترقی دینے کے طریقہ کار کے بارے میں اپنا نقطہ نظر پیش کریں گے۔
یو این آر ڈبلیو اے جو 1949 میں قائم کیا گیا تھا اپنے ساتھ رجسٹرڈ تقریباً 57 لاکھ فلسطینی پناہ گزینوں کو اپنی خدمات فراہم کرتا ہے۔ اس کے آپریشن کے پانچ علاقوں (مغربی کنارے، غزہ کی پٹی، اردن، شام اور لبنان) میں قائم ہیں۔







