اسرائیل کو معاونت فراہمی پر گوگل اور ایمازون کے خلاف امریکہ میں مظاہرے
شیعیت نیوز: اسرائیل کو جاسوسی ٹیکنالوجی فراہم کرنے کی بنا پر امریکہ میں گوگل اور ایمازون کے دفاتر کے باہر احتجاج شروع کر دیا گیا۔
دونوں کمپنیوں کے ملازمین اور مقامی آبادی کے افراد نے مختلف شہروں میں گوگل اور ایمازون کمپنیوں کے دفاتر کے باہر مظاہرے کئے۔
یہ مظاہرے سان فرانسسکو، نیو یارک، سیٹل، اٹلانٹا اور کیلیفورنیا کے علاقے سیلی کون ویلی اور شمالی کیرولینا کے شہر ڈرہان میں کئے گئے۔
مظاہروں کا انعقاد یونین گوگل اور تنظیم ’’نسل پرست ٹکنالوجی نامنظور‘‘ کی اپیل پر کیا گیا تھا۔
مظاہرین نے دونوں کمپنیوں سے 1.2 ملین ڈالر کا "نیمبس” معاہدہ منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس معاہدہ کے تحت قابض اسرائیلی حکومت، اس کی فوج اور پولیس کے ڈیٹا کو جدید ٹیکنالوجی پر منتقل کیا جائے گا۔
دوران احتجاج گوگل کے مستعفی ڈائریکٹر ایریل کورین نے بتایا کہ کس طرح گوگل نے ان سے ’’نمبس‘‘ پروجیکٹ کی مخالفت کرنے کا بدلہ لیا اور ان کا تبادلہ کمپنی کے برازیل کے دفتر میں کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں : برطانیہ، ایشیائی نژاد اور سیاہ فام شہریوں کے ساتھ بے تحاشہ امتیازی سلوک
دوسری جانب اسرائیلی فوج کے ترجمان نے کہا ہے مراکشی فوج صہیونی ریاست کے دارالحکومت تل ابیب میں منعقد ہونے والی ایک فوجی کانفرنس میں شرکت کرے گی جو عنقریب (اسرائیل) میں منعقد ہوگی۔
قابض فوج کے ترجمان نے ٹویٹر پر ایک ٹویٹ میں کہا کہ "اسرائیلی فوج فوجی تجدید اور جدید کاری کے حوالے سے اپنی نوعیت کی پہلی بین الاقوامی کانفرنس کی میزبانی کرے گی”۔ انہوں نے اس بات پرزور دیا کہ عالمی سطح پر درجنوں ممالک کی عسکری قیادت جس میں عرب ممالک کی فوجی قیادت بھی شامل ہے، اس کانفرنس میں شرکت کریں گے۔
انہوں نے مزید کہاکہ اسرائیلی فوج کی سربراہی میں ہونے والی کانفرنس، آزادیِ عمل کو وسعت دینے اور تزویراتی گہرائی پیدا کرنے کے میدان میں بین الاقوامی جواز کو آگے بڑھانے میں مدد دے گی۔ ا سے اسرائیل کو ایک علاقائی طاقت کے طور پر اجاگر کرنے کے علاوہ عسکری اور فوجی میدان میں اہم مقام دلانے کا بھی باعث بنے گی۔
قابض فوج کے ترجمان کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ میں 19 ممالک کے جھنڈے دکھائے گئے جو فوجی کانفرنس میں شرکت کریں گے اور ان میں مراکش کا جھنڈا بھی نظر آیا۔
قابض فوج نے گذشتہ جمعرات کو اعلان کیا کہ وہ اگلے ہفتے ایک بین الاقوامی کانفرنس منعقد کرے گی، جس میں عرب ممالک سمیت دنیا کی فوجوں کے درجنوں رہنما شریک ہوں گے۔
قابل ذکر ہے کہ قابض فوج کے چیف آف اسٹاف ایویو کوچاوی نے گزشتہ جولائی میں پہلی بار مراکش کا دورہ کیا تھا۔اس وقت، کوچاوی نے وضاحت کی تھی کہ اس دورے کا مقصد اسرائیل اور دوسرے ممالک کے درمیان فوجی تعاون کو بڑھانے کی کوششوں کو آگے بڑھانا اور ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ کرنا ہے۔







