چین کا شمالی کوریا کے ساتھ تعلقات کو فروغ دینے کا عزم

10 ستمبر, 2022 10:14

شیعیت نیوز: چین نے کہا ہے کہ وہ علاقے میں سلامتی کی تقویت کے لئے شمالی کوریا کے ساتھ تعلقات کو اور فروغ دے گا۔

چین کے صدر شی جن پنگ نے شمالی کوریا کی تشکیل کی چوہترویں سالگرہ کے موقع پر کہا کے بیجنگ، پیونگ یانگ کے ساتھ تعلقات کو مزید فروغ دے گا۔ انہوں نے کہا کہ تعلقات میں توسیع کا نتیجہ علاقے اور پوری دنیا کے استحکام، امن، ترقی اور خوشحالی کی شکل میں سامنے آئے گا۔

شمالی کوریا کے رہنما کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے چینی صدر شی جن پنگ نے کہا کہ شمالی کوریا کی گذشتہ برسوں کی کوششیں رنگ لائی ہیں اور پیونگ یانگ کی پالیسی کے نتیجے میں، معیشت اور عوام خوشحالی کی جانب گامزن ہیں اور کورونا سے مقابلے میں بھی مناسب پیشرفت حاصل ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ چین، شمالی کوریا کے ساتھ ایک اچھے ہمسایہ اور دوست ملک ہونے کے پیش نظر ان کامیابیوں کا خیرمقدم کرتا ہے۔

یاد رہے کہ شمالی کوریا کی بنیاد نو ستمبر سن انیس سو اڑتالیس کو رکھی گئی تھی۔ چوہترویں سالگرہ کے موقع پر کم جونگ اون نے ایک نئے قانون کے نفاذ کا بھی اعلان کیا جس کے تحت شمالی کوریا کو باضابطہ طور پر ایٹمی طاقت قرار دیا گیا ہے جسے خطرے کی صورت میں پیشگی اور فوری ایٹمی حملے کا مکمل حق حاصل ہے۔

یہ بھی پڑھیں : صیہونی فوج کی فلسطینیوں پر براہ راست فائرنگ ، متعدد زخمی اور گرفتار

دوسری جانب اقوام متحدہ میں چین کے سینیئر سفارتکار نے مغرب کی جانب سے یوکرین کو بلاوقفہ اسلحے کی فراہمی پر اصرار کو عالمی امن کے لئے سنگین خطرہ قرار دیا۔

اقوام متحدہ میں چین کے نائب مستقل مندوب نے اعلان کیا کہ یوکرین کو جنگی ہتھیاروں کی فراہمی صلح قائم ہونے کا سبب نہیں بنے گی۔

گنگ شوانگ نے مزید کہا کہ چھ مہینے سے زائد عرصہ گزرجانے کے باوجود ابھی تک شدید جنگ بدستور جاری ہے جبکہ میدان جنگ میں مزید ہتھیار اور اسلحہ جھونکا جا رہا ہے اور یہ بذات خود طویل مدتی اور وسیع پیمانے پر تصادم کے خوفناک امکان کو جنم دیتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ چین، یوکرین کے بحران کے آغاز سے ہی مسلسل تاکید کر رہا ہے کہ اسلحہ کی فراہمی یوکرین میں صلح لے کر نہیں آئے گی اور جنگ کی آگ میں ایندھن جھوکنا صرف مسئلے کو مزید پیچیدہ بنادے گا۔ پچھلے چھ ماہ کے انسانی نقصانات نے اس بات کو پوری طرح ثابت کر دیا ہے۔

چین کے نمائندے نے مزید کہا کہ بیجنگ ہمیشہ سے اس بات یقین رکھتا ہے کہ یوکرین کے بحران کو حل کرنے کا سب سے زیادہ حقیقت پسندانہ اور ممکنہ طریقہ بات چیت اور گفت و شنید ہے۔ صرف مشترکہ، جامع اور پائیدار سلامتی کے لئے کوشش کے ذریعے ہی ہم یورپ اور دنیا کے دیگر حصوں میں طویل مدتی استحکام اور سلامتی قائم کرنے کی امید کر سکتے ہیں۔

5:17 شام مارچ 10, 2026
بریکنگ نیوز:
Scroll to Top