شام اور عراق میں موجود امریکی افواج ہائی الرٹ

27 اگست, 2022 10:06

شیعیت نیوز: گذشتہ شب مشرقی شام میں قابض امریکی افواج کے دو ٹھکانوں پر راکٹ حملوں کے بعد امریکی دہشت گرد فورس سینٹکام کے کمانڈر نے شام اور عراق میں اپنی افواج کے ہائی الرٹ ہونے کی خبر دی۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے سربراہ جنرل مائیکل ایرک کوریلا نے شام اور عراق میں امریکی قابض افواج کے خلاف حملوں میں اضافے کی وجہ سے قابض فورسز کے ہائی الرٹ ہونے کی خبر دی ہے۔

انہوں نے انگریزی خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکی افواج، شام اور عراق میں بہت باریک بینی سے حالات کا جائزہ لے رہی ہیں اور مجموعی طور پر خطے میں دی جانے والی دھمکیوں کو کم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں اور کسی بھی ممکنہ خطرے کے خلاف اپنے فوجیوں اور اتحادیوں کی حفاظت کرنا جانتی ہیں۔

یاد رہے کہ العمر آئل فیلڈ اور کونیکو گیس فیلڈ کے قریب مشرقی شام میں قابض امریکی افواج کے دو فوجی اڈوں پر راکٹ حملہ ہوا۔ یہ کارروائیاں امریکہ کی جانب سے اپنے فوجی اڈوں پر حملے کے بہانے سے منگل کی رات مشرقی شام میں متعدد مقامات پر کئے گئے جارحانہ حملوں کا جواب ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : حشد الشعبی نے امریکی حملوں کا دندان شکن جواب دینے کی حکمت عملی تیار کر لی گئی

امریکی ذرائع ابلاغ نے جمعرات کی صبح مشرقی شام میں دو امریکی بیس کیمپوں پر راکٹ حملے کے نتیجے میں چند فوجیوں کے زخمی ہونے کی خبر دی ہے۔

اس واقعے کے ایک گھنٹے بعد امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ "سینٹکام” کے نام سے معروف دہشت گرد فورس نے ایک بیان میں تصدیق کی کہ ان کارروائیوں میں تین امریکی فوجی زخمی ہوئے ہیں، البتہ وہ معمولی زخمی ہوئے ہیں۔

سینٹکام کے کمانڈر نے یہ بھی کہا کہ ہماری افواج نے مذکورہ شامی علاقوں میں ہونے والے راکٹ حملوں کا فوری جواب دیتے ہوئے حملہ آوروں کی تین گاڑیاں اور سامان تباہ کر دیا۔ ہمارے ابتدائی اندازہ کے مطابق اس کارروائی میں دو سے تین عسکریت پسند مارے گئے ہیں۔

یہ امر قابل غور ہے کہ امریکہ نے گذشتہ برسوں میں دہشت گردی اور داعش کے خلاف جنگ کے بہانے شام میں علیحدگی پسند فورسز کی حمایت کی اور شام کے تیل سے مالا مال علاقوں پر قبضہ کر لیا۔ امریکہ کے سابق صدر "ڈونلڈ ٹرمپ” وضاحت کے ساتھ کہہ چکے ہیں کہ شام میں امریکی فوج کی موجودگی تیل کے کنوؤں کی وجہ سے ہے۔

5:48 صبح مارچ 9, 2026
بریکنگ نیوز:
Scroll to Top