اسرائیلی قابض اتھارٹی نے شیخ رائد صلاح کے سفر پر پابندی میں توسیع کر دی
شیعیت نیوز: اسرائیلی قابض اتھارٹی نے 1948 کے مقبوضہ فلسطینی علاقے میں اسلامی جہاد کے سربراہ شیخ رائد صلاح کے سفر پر عاید کردہ پابندی میں توسیع کردی ہے۔ قابض اتھارٹی کا یہ فیصلہ ہفتے کے روز سامنے آیا ہے۔
انسانی حقوق سے متعلق ادارے کے ذرائع کہنا ہے شیخ رائد صلاح کے سفر کرنے پر قدغن میں کی گئی توسیع 13 ستمبر تک جاری رہے گی۔ تاہم اس توسیع کو مزید چھ ماہ تک بڑھایا جا سکتا ہے۔
اسرائیل کے وزیر دفاع نے پچھلے فروری نے شیخ رائد صلاح کے سفر پر ایک ماہ کے لیے پابندی اعلان کیا تھا۔ جس کے ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا تھا اس پابندی کو چھ ماہ تک بڑھایا بھی جا سکتا ہے۔ وہ اس وقت سے اس پابندی کی زد میں ہیں۔
شیخ رائد صلاح کو اسرائیلی قابض اتھارٹی نے مسجد اقصیٰ سے پندرہ سال کے لیے جبری طور پر جلاوطن کر رکھا ہے۔ نیز ان کی سرگرمیوں کو بھی روک رکھا ہے کہ وہ مقدس مقامات کے خلاف صہیونی عزائم اور اہل فلسطین کے خلاف نسل پرستانہ کارروائیوں کے خلاف بات کرتے ہیں۔
قابض اسرائیلی اتھارٹی نے اس سے پہلے انہیں سولہ ماہ تک قید تنہائی میں رکھنے کے بعد 13 دسمبر 2021 کو رہا کیا تھا، شیخ رائد صلاح پر الزام تھا کہ وہ فلسطینی عوام کو دہشت گردی پر اکساتے تھے۔ وہ 13 دسمبر 2021 کی رہائی کے بعد محض دوماہ رہ سکے ۔
یہ بھی پڑھیں : حماس اور ایران کے تعلقات کبھی بھی تعطل کا شکار نہیں ہوئے، خالد مشعل
دوسری جانب فلسطینیوں کے پرزنرز سوسائٹی نے اطلاع دی ہے کہ اسرائیلی جیل میں بھوک ہڑتال کرنے والے ایک اور نظر بند قیدی شیخ یوسف الباز کی حالت بگڑ گئی ہے ۔ اس صورت حال میں 66 سالہ شیخ الباز کو ریمنڈ جیل کے ہسپتال میں منتقل کر دیا گیا ہے۔
قیدیوں کے لیے کام کرنے والی سوسائٹی نے قدس پریس کو بتایا ہے کہ الباز کی حالت زیادہ خراب ہونے پر جیل میں اضطراب پھیل گیا تھا۔ اپنے مسمسل نظر بندی کے خلاف شیخ الباز نے بھوک ہڑتال کر رکھی ہے، اس لیے انہوں نے حالت زیادہ خراب ہونے پر بھی پانی پینے سے انکار کر دیا تھا۔
شیخ یوسف الباز فلسطینی شہری ہیں اور او لاڈ کی جامع مسجد میں مبلغ کے طور پر کام کرتے ہیں۔ انہیں اسرائیلی قابض اتھارٹی نے اپریل 2022 میں نظر بند کیا تھا۔ بعد ازاں عدالت نے ان کے حق میں فیصلہ دیا لیکن اس کے باوجود اسرائیلی انٹیلی جنس نے انہیں رہا نہیں ہونے دیا۔
شیخ یوسف الباز کی عمر چھیاسٹھ برس ہے اور وہ چھ بچوں کے باپ ہیں۔ انہوں نے بے گناہی کے باوجود خود کو نظربند کیے جانے کے اسرائیلی اقدام کے خلاف بطور احتجاج بھوک ہڑتال شروع کر رکھی ہے۔







