ایمنسٹی کی اسرائیل کی نسل پرستانہ پالیسیوں کےخلاف نئی مہم شروع
شیعیت نیوز: انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ’ایمنسٹی انٹرنیشنل یو کے‘ نے ایک نئی مہم کا اعلان کیا جس میں فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی نسل پرستی کے خاتمے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
اس مہم کا اعلان ایمنسٹی انٹرنیشنل برطانیہ کے مہم مینیجر برائے (اسرائیل)/ فلسطین اور شام کے کرسچن بینیڈکٹ نے ٹویٹر کے ذریعے ’’اسرائیلی نسل پرستی کو روکو‘‘ کے عنوان سے کیا گیا۔
بینیڈکٹ نے لکھا کہ ’’عالمی مہم #EndIsraeliApartheid کی حمایت میں نئی ایمنسٹی یو کے ٹی شرٹس، بریفنگ اور دیگر تجارتی سامان مزید جلد آرہا ہے۔‘‘
ایمنسٹی انٹرنیشنل یو کے میں کرائسز ریسپانس پروگرام کے ڈائریکٹر بینیڈکٹ نے عبرانی اخبار دی یروشلم پوسٹ کو بتایا کہ فلسطینیوں کے خلاف اسرائیل کے نسل پرستی کے سخت نظام کو ختم کرنے میں مدد کرنے کے لیے ہماری مہم نے نسل پرستی اور امتیازی سلوک کی مخالفت کرنے والے لوگوں کی طرف سے بہترین ردعمل دیکھا ہے۔
ہم توقع کرتے ہیں کہ اسرائیل کی نسل پرستی کے خاتمے کی مہم کی ٹی شرٹس اور دیگر مصنوعات مقبول ہوں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ٹی شرٹس کا پہلا سیٹ آنے والے دنوں میں دستیاب ہوگا اور فلسطینیوں کے ساتھ شراکت میں مزید اضافہ ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں : بچوں کے قتل عام پر اسرائیل کو قصور وار ٹھہرایا جائے، انتونیو گوٹیرس
دوسری جانب نو مغربی ملکوں نے ایک بیان جاری کر کے چھے فلسطینی تنظیموں کا نام دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کئے جانے کی اسرائیل کی درخواست کو مسترد کر دیا۔
ارنا کی رپورٹ کے مطابق فرانس، جرمنی، بلجیئم، ڈنمارک، اسپین، آئرلینڈ، اٹلی، ہالینڈ،اور سوئیڈں نے ایک بیان میں چھے فلسطینی تنظیموں کا نام دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کئے جانے کی اسرائیل کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے ان فلسطینی تنظیموں کے لئے اپنی بھرپور حمایت کا اعلان کیا۔اس بیان میں کہا گیا ہے کہ ان فلسطینی تنظیموں کے ساتھ تعاون کا عمل جاری رہے گا۔
اس سے قبل صیہونی وزیر جنگ نے اکتوبر دو ہزار اکیس میں عوامی محاذ برائے آزادی فلسطین کے ساتھ تعاون کے الزام میں ان فلسطینی تنظیموں کا نام دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کئے جانے کی ضرورت پر زور دیا تھا۔ ان فلسطینی تنظیموں میں قیدیوں اور انسان دوستانہ امور سے متعلق الضمیر تنظیم ، فلسطینیوں اور بچوں کے دفاع کی بین الاقوامی تحریک، عرب خواتین کی کمیٹیوں کی یونین اور زراعت سے متعلق یونین، ادارہ الحق اور ترقی و تحقیقاتی مرکز کا نام شامل ہے۔







