اہم ترین خبریںمقالہ جات

شہید عارف الحسینیؒ کے معنوی فرزندوں کا وطن عزیز پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے ساتھ سیاسی اشتراک کا معاہدہ

یہ معاہدہ پاکستانی عوام کے اندر خودداری، استقلال، ملی غیرت، مظلوموں کی حمایت اور اسرائیل جیسے ظالموں کے خلاف نفرت کو مزید پروان چڑھائے گا اور استحکام بخشے گا۔

شیعیت نیوز: آج شام جب گھر پہنچا، انٹرنیٹ آن کیا اور حسب معمول وٹساپ کھولا تو مختلف گروپوں میں ایک تصویر ایک مختصر خبر کے ساتھ گردش کرتی دکھائی دی۔ ایک دینی سیاسی جماعت مجلس وحدت مسلمین کا اعلی سطح وفد پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت پاکستان تحریک انصاف کی اعلی قیادت کے ساتھ تشریف فرما تھا۔ مذکورہ تصویر میں دونوں جماعتوں کے قائدین ایک معاہدہ پر دستخط کرتے دکھائی دے رہے تھے۔

خبر بھی کچھ یوں تھی۔۔۔

(پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے چیئرمین علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کے درمیان اعلیٰ سطحی وفود کے ہمراہ اسلام آباد میں ملاقات۔ دونوں جماعتوں کے قائدین نے قومی امور میں سیاسی اشتراک عمل کے جامع معاہدے پر دستخط کردیے۔)

یہ بھی پڑھیں: دعازہرا نکاح کیس، علامہ شہنشاہ حسین نقوی نے فقہائے نجف سے رجوع کرلیا

میرا تجسس بڑھنے لگا کیسا معاہدہ ؟ کیا طے پایا ؟ کن باتوں پر اتفاق ہوا ؟ کچھ لو کچھ دو والی روش ؟ وغیرہ وغیرہ ۔۔۔۔۔

یہی سوچ رہا تھا کہ کسی دوست نے معاہدے کا متن شیئر کیا۔ پڑھ کر عجیب خوشی ہوئی، معاہدے کے نکات میں شہید عارف الحسینی کے ارمان نظر آئے، مظلوموں اور محروموں کی دادرسی اور ظالموں اور جابروں کے ساتھ نبردآزما فکر دکھائی دی، قائداعظم اور علامہ اقبال کا حقیقی پاکستان دکھائی دیا۔ آپ خود معاہدکے نکات ملاحظہ کیجئے۔

1️⃣ وطن عزیز پاکستان کی داخلی وحدت ، سلامتی اور استحکام کو ہرصورت یقینی بنایا جائے گا، اسلامی اقدارکا تحفظ ، تحریک پاکستان کی نظریاتی بنیادوں کی حفاظت اور سیاسی ، اقتصادی اور دفاعی خود انحصاری کے حصول کیلئے مشترکہ جدوجہد کی جائے گی۔

2️⃣ اسرائیل کے حوالے سے قائد اعظم محمد علی جناح ؒ کی دی ہوئی گائیڈ لائن سے کسی قسم کی روگردانی نہیں کی جائےگی اور کشمیر وفلسطین کے موضوع پر اپنے اخلاقی قانونی نقطہ نظر سے کسی قسم کا انحراف نہیں کیا جائےگا۔

3️⃣ پاکستان دنیا کے تمام ممالک کے ساتھ برابری کی بنیاد پر تعلقات کا خواہاں ہے ، مسلم ممالک کے ساتھ اتحاد وحدت کو خصوصی حیثیت حاصل ہوگی، ملکی معاملات میں غیر ملکی مداخلت کو روکنا خارجہ پالیسی کا بنیادی اصول ہوگا۔

4️⃣ مسلم ممالک کے باہمی تنازعات میں مذاکرات کے ذریعے راہ حل نکالنے کی کوشش کی جائے گی اور ان تنازعات میں فریق نہیں بنا جائے گا، دوست پڑوسی ممالک سے تعلقات کو خصوصی حیثیت حاصل ہوگی۔

5️⃣ گلگت بلتستان کو مکمل آئینی صوبہ بنایا جائے گا۔

6️⃣ وطن عزیز پاکستان میں ظلم کے خاتمے اور انصاف کی فراہمی کو اولین ترجیح دی جائے گی، پسماندہ اور استحصال شدہ طبقے کی بحالی اولین ترجیح ہوگی۔

7️⃣ ہمیں غلامی قبول نہیں ، پاکستانی سرزمین کسی بھی ملک کو فوجی اڈوں کیلئے نہیں دی جائے گی، پاکستان کے فیصلے اسلام آباد میں ہی ہوں گے، آزاد خارجہ پالیسی اور داخلی خودمختاری ہمارے بنیادی اصولوں میں سے ہے اور اس بیانئے سے کسی طرح بھی رو گردانی نہیں کی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں: انقلابی جوانوں کے ذریعے ہی معاشرے میں وسیع سطح پر انقلاب و اصلاح کی راہ ہموار کی جا سکتی ہے، علامہ امین شہیدی

وہی خودداری استقلال اور آزادی جس کا درس شہید علامہ عارف حسین الحسینی نے مینار پاکستان پر منعقدہ قرآن و سنت کانفرنس میں دیا (ہمارے وطن عزیز میں امریکہ اور مغربی دنیا کا اثرورسوخ اتنا حاوی ہوچکاہے کہ ہمارے صاحبان اقتدار ہر معمولی سے معمولی مسئلے پربھی امریکی منشا کو ملحوظ خاطر رکھے بغیر قدم نہیں اٹھا سکتے ،لہذا ہم چاہتے ہیں کہ ہماری تقدیر کے فیصلے وائٹ ہاوس کے بجائے اسلام آباد میں ہی ہونے چاہئیں)

مظلومین کشمیر مظلومین فلسطین اور محرومین گلگت بلتستان کی حمایت کا عزم یعنی شہید سے سیکھا ہوا ظلم کے مخالفت اور مظلوم کی حمایت کا درس (تمام مسلمان ایک جسم کے اعضاء کی مانند ہیں ہم افغانستان، لبنان، فلسطین اور کشمیر کے مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم سے لاتعلق نہیں رہ سکتے(سفیر نور، ص219)

شہید کے لائق شاگردوں کی طرح نظریہ پاکستان کی حفاظت (پاکستان کے قیام کیلئے تمام مکاتب فکر کے مسلمانوں نے بھر پور جدوجہد کی ہے۔ آج کسی ایک مکتب فکر کے نظریے کو دوسروں پر مسلط کرنے کا مقصد نظریہ پاکستان سے انحراف کے مترادف ہوگا۔ (شہید قائد کا بھکر میں عظیم الشان اجتماع سے خطاب جولائی 1986ء )

معاہدہ پر مکمل عمل دارآمد شاید تحریک انصاف کے برسر اقتدار آنے کے بعد ہی ممکن ہو لیکن پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کا مذکورہ موقف کو اپنانا خود اس موقف کی فتح ہے۔

یہ معاہدہ پاکستانی عوام کے اندر خودداری، استقلال، ملی غیرت، مظلوموں کی حمایت اور اسرائیل جیسے ظالموں کے خلاف نفرت کو مزید پروان چڑھائے گا اور استحکام بخشے گا۔

ملت تشیع نے اس معاہدے کے ذریعے ثابت کیا ہے کہ وہ وطن عزیز پاکستان کے استحکام استقلال اور وطن کے مفاد کے لیے کی جانے والی کاوشوں میں کسی سے پیچھے نظر نہیں آئے گی۔

سید حسن رضا نقوی
قم المقدسه
20 جون 2022

 

متعلقہ مضامین

Back to top button