غزہ کے اردگرد اسرائیلی فوجی مشقوں کا دوسرا دن
شیعیت نیوز: اسرائیلی فوج کا غزہ کے اردگرد جنگی مشقوں کا آج دوسرا دن ہے۔ ان مشقوں کا آغاز پیر کی صبح کیا گیا تھا۔ اس حوالے سے غزہ کے آس پاس جنگی منظر بنا دیا گیا ہے۔
اسرائیلی فوج کے ترجمان نے عبرانی زبان کی ایک ویب سائٹ پر کہا ہے یہ مشقیں آج بھی جاری رہیں گی۔ مشقوں کے دوران غزہ کے اردگرد بستیوں کے علاقوں کو کور کیا جائے گا۔
فوجی مشقوں میں اسرائیلی فوجی پوری طرح اسلحے اور بارود سے لیس ہوں گے۔ اس وجہ سے علاقے میں بعض جگہوں پر بندشں بھی لگائی جائیں گی۔
دوسری جانب عبرانی اخبار ’’اسرائیل ٹوڈے‘‘ نےاسرائیلی حکومت کے ایک سیٹلمنٹ پلان کا انکشاف کیا جس کا مقصد القدس اور بحرہ مردار کے درمیان ایک بڑے رقبے پر "قومی پارک” قائم کرنا ہے۔ اس میں وضاحت کی گئی ہےکہ یہ ایک ابتدائی منصوبہ ہے جس کا مقصد علاقے کی خصوصیات کو تبدیل کرنا اور اسے یہودی آباد کاروں کے لیے ایک منزل بنانا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : دو سالہ ننھا فلسطینی بچہ حمودی مصطفیٰ اسرائیلی فوج کی توہین کے الزام میں گرفتار
یہودی ریاست کا پارک مغرب میں "کوچاو ہشہر” یہودی سے شروع ہوتا ہے اور”گش اتزیون” کی بستی کے مشرق میں پہنچتا ہے۔
اسکیم کے مطابق اس پارک میں بحیرہ مردار کا نظارہ کرنے والا تقریباً نصف حصہ شامل ہوگا۔
اسرائیل ٹوڈے کے مطابق اس اقدام کے سیاسی اثرات ابھی تک واضح نہیں ہیں، کیونکہ اس سے بین الاقوامی مخالفت کا سامنا ہوسکتا ہے۔ کیونکہ یہ قدم دو ریاستی حل کے اصول کو ختم کر دے گا جو امریکا اور یورپی موقف سے متصادم ہے۔
اخبار کے مطابق منصوبہ ساز سیاسی مسائل کو نظرانداز کرتے ہوئے آباد کاروں کی طرف سے روزانہ دراندازی اور دیگر سرگرمیوں کے ذریعے زمین پر عملی مشقیں شروع کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
اس منصوبے میں ایک موبائل ریستوراں نیٹ ورک، شمالی بحیرہ مردار میں ایک ہوٹل کمپلیکس اور ایک معلوماتی مرکز کا قیام شامل ہے۔
اگرچہ اس کے ذمہ داروں کی تعریف کے مطابق یہ ایک ابتدائی منصوبہ ہے، لیکن یہ کوئی نظریہ نہیں ہے، اور سٹریٹجک منصوبہ پہلے ہی مکمل ہو چکا ہے، اور اس کے ذمہ داروں کی جانب سے عملدرآمد کے شراکت داروں کی تلاش کے لیے کام شروع کر دیا گیا ہے۔







