مسجد ابراہیمی سے متصل عمارت کا ایک حصہ زمین بوس
شیعیت نیوز: فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے کے جنوبی شہر الخلیل میں قائم تاریخی مسجد ابراہیمی سے ایک متصل عمارت میں دراڑیں پڑ گئیں اور اس کا کچھ حصہ گر گیا ہے۔
مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ متصل عمارت کے ایک حصے کے منہدم ہونے کی وجہ عمارت کی مرمت پر اسرائیلی فوج کی طرف سے عائد کردہ پابندیاں ہیں۔
الخلیل اوقاف کے ڈائریکٹر جنرل نضل الجبعری نے کہا حرم ابراہیمی کے بالمقابل اور ملحقہ عمارت میں دراڑوں اور جزوی طور پر گرنے کے نتیجے میں مسجد ابراہیمی کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم نے قابض صیہونی حکام کو متنبہ کیا ہے کہ اگر مسجد ابراہیمی سے متصل عمارتوں کی مرمت کی اجازت نہیں دی جاتی تو اس کے نتیجے میں مسجد ابراہیمی کو بھی خطرات لاحق ہیں۔
الجبعری نے اس بات پر زور دیا کہ مقدسات کے خلاف قابض اسرائیل کی سنگین اور بار بار خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے ممکنہ اقدامات کیے جائیں اور مسجد ابراہیمی کو لاحق خطرات کا معاملہ عالمی سطح پر اٹھایا جائے۔
یہ بھی پڑھیں : ہم داخلی خود مختاری چاہتے ہیں ہمارے فیصلے اسلام آباد میں ہونے چاہئیں واشنگٹن میں نہیں، علامہ راجہ ناصرعباس
دوسری جانب اسرائیلی فوج نے کل اتوار کو مقبوضہ مغربی کنارے کے جنوبی شہر بیت لحم کے جنوب میں واقع قصبے الخضر میں فلسطینی شہریوں کی زمینوں کو مسمار کیا اور زیتون کے درختوں کی ایک بڑی تعداد کو اکھاڑ دیا۔
مقامی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ قابض اسرائیلی فوج نے قصبے کے جنوب میں واقع باطن المعصی کے علاقے میں چار دونم اراضی پر قبضہ کیا اور شہریوں عیسیٰ احمد صلاح اور داؤد صلاح کے 95 زیتون کے درختوں کو اکھاڑ پھینکا۔
قابض اسرائیلی فوج مقبوضہ بیت المقدس سمیت مغربی کنارے میں شہریوں کے گھروں اور زمینوں کو مسلسل تباہ اور بلڈوز کر رہی ہے۔







