پیغمبر خدا ؐکی شان میں گستاخی ناقابل قبول، سرکار سخت قدم اٹھائے، مولانا کلب جواد نقوی
شیعیت نیوز: مجلس علمائے ہند کے جنرل سکریٹری مولانا سید کلب جواد نقوی نے شرپسند عناصر کے ذریعہ پیغمبر خدا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور دین اسلام کی اہانت کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے سرکار سے ایسے تخریبی عناصر کے خلاف سخت قانونی اقدام کا مطالبہ کیا۔
مولانا نے سرزمین ایران سے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ اسلام ہر مذہب اور اس کی مقدس شخصیات کے احترام کا قائل ہے ۔ہم کسی بھی مذہب کے مقدسات کی اہانت اور منقصت کو خلاف شرع سمجھتے ہیں ۔
مولانا نے کہا کہ گذشتہ کچھ سالوں میں پیغمبر خدا اور دین اسلام کے خلاف جس طرح زہرپاشی کی گئی ہے اس نے ملک کی فضا کو مکدر کیا ہے۔یہ اسلامو فوبیا کی بدترین شکل ہے جو ملک کے بھائی چارہ کے لئے انتہائی خطرناک ہے۔ ایسے تخریبی و شر پسند عناصر کو صرف پارٹی سے برخاست کرنا کافی نہیں ہے بلکہ ان کے خلاف سخت قانونی کاروائی ہونی چاہئے۔
انہوں نے کہا کہ المیہ یہ ہے کہ ایسے افراد کو پیغمبر خداؐ کی زندگی اور اسلامی تعلیمات کا بالکل علم نہیں ہوتااور نہ یہ لوگ اس بارے میں مطالعہ کرنے کی زحمت کرتے ہیں۔ لاعلمی ہر فساد اور برائی کی جڑ ہے۔ یا پھر جان بوجھ کر ملک کے ماحول کو خراب کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جس پر سرکار اور سپریم کورٹ کو سنجیدگی سے سوچنے کی ضرورت ہے۔
یہ بھی پڑھیں : اقوام متحدہ اور ملائیشیا نے کی پیغمبرِ اسلام (ص) کی شان میں گستاخی کی مذمت
دوسری جانب بھارت کی حکمران جماعت کے دو ارکان کی جانب سے پیغمبر اسلام کے خلاف حالیہ توہین کے بعد، بی جے پی نے 38 انتہا پسند رہنماؤں کی فہرست مرتب کی ہے اور انہیں مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے والے کسی بھی تبصرے سے روک دیا ہے۔
بھارتی ویب سائٹ اماروجلا نے رپورٹ کیا کہ بی جے پی نے پہلے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے والے 38 رہنماؤں کی فہرست مرتب کی ہے اور ان میں سے 27 کو کوئی بھی بیان دینے سے قبل پارٹی سے اجازت لینے کا حکم دیا گیا ہے۔
اس پارٹی نے اپنے ترجمانوں کو یہ بھی ہدایت کی ہے کہ وہ عوامی یا ورچوئل اسپیس پر تبصرہ کرنے سے گریز کریں۔
یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے، بی جے پی کے ایک ترجمان نے پیغمبر اسلام (ص) کے بارے میں توہین آمیز تبصرے کرکے تنازعہ اور تنقید کو ہوا دی تھی۔
قطر اور کچھ دیگر مسلم ریاستوں نے بھارت سے سرکاری معافی کا مطالبہ کیا، بی جے پی نے تنقید کو کم کرنے کے لیے نوپور شرما اور پارٹی کے ایک اور سرکردہ رکن کی رکنیت معطل کردی۔
اسلامی جمہوریہ ایران، پاکستان، افغانستان اور اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے اس جرم پر بھارت سے باضابطہ احتجاج کیا۔







