عبداللہ شلح کی برسی پر اسماعیل ھنیہ کا مرحوم رہنما کو خراج عقیدت
شیعیت نیوز: اسلامی جہاد کے سابق سیکرٹری جنرل عبداللہ شلح مرحوم کی دوسری برسی کے موقعے پراسلامی مزاحمتی تحریک حماس کے سیاسی شعبے کے سربراہ اسماعیل ھنیہ نے شلح کی خدمات کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا ہے۔
کل سوموار 6 جون کورمضان عبداللہ شلح کی دوسری برسی کے موقعے کی مناسبت سے جاری ایک بیان میں اسماعیل ھنیہ نے کہا کہ دوسال قبل چھ جون 2020ء کو ہم ایک عظیم لیڈر، قوم کے خیر خواہ اور عظیم انسان سے محروم ہوگئے۔
انہوں نے کہا کہ رمضان عبداللہ شلح ایک بہادر لیڈر، جرات مند قائد، پر عزم مجاھد، محبت وایثار کے پیکر، جذبہ قربانی سے لبریز، بلند ہمت اور فراخ دل انسان تھے۔
انہوں نے مزید کہا رمضان عبداللہ شلح ایک ایسے لیڈر تھے جن کے دل میں فلسطین سے محبت تھی اور وہ پوری زندگی قوم کی خدمت اور ملک کی آزادی کے لیے سراپا جدو جہد رہے۔
انہوں نے کہا کہ مرحوم رہ نما ہمیشہ قومی اتحاد کے داعی تھے۔ وہ پوری قوم کے تمام طبقات کو مشترکات پر اکھٹا کرنے کام عزم لیے اس دنیا سے رخصت ہوئے۔
اسماعیل ھنیہ نے قابض ریاست کے خلاف فلسطینی قوم کی مزاحمت میں خدمات انجام دینے پر انہیں خراج عقیدت پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مرحوم زندگی بھر قابض دشمن کے خلاف آزادی کی تحریک کے ہراول دستے کا حصہ رہے اور ہر محاذ پر دشمن کے خلاف مسلح جدو جہد میں حصہ لیا۔
خیال رہے کہ اسلامی جہاد کے سابق سیکرٹری جنرل رمضان عبداللہ شلح دو سال قبل چھ جون کو طویل علالت کے بعد اس دار فانی سے کوچ کرگئے تھے۔
یہ بھی پڑھیں : عرب لیگ کا فلسطین سے اسرائیل کا غاصبانہ تسلط ختم کرنے کا مطالبہ
دوسری جانب فلسطینی مزاحمتی تحاریک نے کہا ہے کہ اسرائیل کو مسجد اقصیٰ اور مقبوضہ بیت المقدس کے تمام علاقوں پر پُرتشدد کارروائیوں کے نتائج کا ذمہ دار ٹھہرایا جانا چاہیے۔
تحاریک نے پڑوسی عرب ممالک کے خلاف 1967 کی اسرائیلی جنگ کی 55 ویں سالگرہ کے موقع پر جاری کردہ ایک مشترکہ بیان میں مزید کہا کہ بیت المقدس صیہونیت کے خلاف مزاحمت کا مرکز ہے۔یہ عرب اور اسلامی ملک ہے، اسے یہودی ریاست کبھی نہیں بننے دیں گے۔
بیان میں اس عزم کو دہرایا گیا کہ فلسطینی عوام مسجد اقصیٰ کی حفاظت جاری رکھیں گے اور اسرائیلی قبضے کے منصوبوں کو ناکام بنائیں گے۔
تحاریک نے بعض عرب ممالک اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کی استواری پر تنقید کی اور اسے فلسطینی عوام کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کے مترادف قرار دیا۔ مزید کہا کہ اس طرح کی دوستیوں سے اسرائیل کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے کہ وہ ہمارے لوگوں پر اپنی جارحیت میں آگے بڑھے۔
فلسطینی مزاحمتی تحاریک غزہ کی پٹی میں باقاعدگی سے باہم مل بیٹھتیں اور تازہ ترین فلسطینی صورت حال کا جائزہ لیتی رہتی ہیں۔







