مغربی کنارے میں ایمرجنسی کی مدت میں توسیع قابل مذمت ہے،حماس

08 جون, 2022 01:23

شیعیت نیوز: اسلامی مزاحمتی تحریک حماس نے اسرائیلی پارلیمنٹ کی طرف سے مقبوضہ مغربی کنارے میں نافذ کردہ ایمرجنسی کی مدت میں توسیع کے فیصلے کی مذمت کی ہے۔

حماس کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اس طرح کے اسرائیلی احکامات کی کوئی قانونی حییت ہے اور نہ ہی ناجائز فیصلوں سے اسرائیل کے ناجائز وجود کو جواز اور تحفظ دیا جا سکتا ہے۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس طرح کے اسرائیلی اقدامات اسرائیل کی نسل پرستی کی بد ترین مثال ہیں، جن سے ثابت ہوتا ہے کہ اسرائیل  فلسطینی عوام کے بنیادی حقوق کو پامال کرنے کے لیے بین الاقوامی قوانین کی بھی خلاف ورزی کررہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : آئی ایس او کے یوم تاسیس اور امام خمینی کی برسی کی مناسبت سے سکردو میں پروقار تقریب کا انعقاد

اس مذمتی بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ  اسرائیلی پارلیمنٹ پچھلے پچاس برسوں سے مسلسل ایمرجنسی کی مدت میں توسیع کے فیصلے کر رہی ہے۔ یہاں تک کہ اب جبکہ اسرائیلی مخلوط حکومت کو پارلیمنٹ میں اکثریت کا حاصل رہنا بھی مشکوک ہو چکا ہے فلسطینیوں کے خلاف اس طرح کے نام نہاد قانون منظور کر رہی ہے۔  یہ سب غیر انسانی ، غیر قانونی اور قابل مذمت ہے۔

دوسری جانب قابض اسرائیلی  فوج نے دریائے اردن کے مغربی کنارے کے جنوبی شہر الخلیل کے جنوب میں مسافر یطا کے التوانہ گاؤں سے ملحقہ خربہ الرکیز میں ایک فلسطینی خاندان کو اس کا مکان مسمار کرنے پر مجبور کیا۔ اسرائیلی ریاستی جبر کے باعث فلسطینی خاندان اپنا گھر خود ہی مہندم کرنے پر مجبور ہوگیا۔

پروٹیکشن اینڈ ریسیلینس کمیٹیوں کے کوآرڈینیٹر فواد العمور نے بتایا کہ قابض فورسز نے مراد حمامدہ کو خربہ الرکیز میں ان کے 40 مربع میٹر اینٹوں کے گھر کے کچھ حصے کو منہدم کرنے پر مجبور کیا۔

العمور نے نشاندہی کی کہ قابض افواج نے ہمیشہ منظم فوجی مہمات شروع کیں جس میں مسافر یطا کے دیہات اور کھنڈرات میں کسانوں اور چرواہوں کے خیموں اور رہائش گاہوں کو نشانہ بنایا گیا۔ قابض فوج کا مقصد یہودی آباد کاری کے لیے فلسطینیوں کی املاک پر غاصبانہ قبضہ جمانا ہے۔

5:13 شام مارچ 16, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔