دنیا

گیس کی خریدار بیس یورپی کمپنیوں نے پوتین کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے

شیعیت نیوز: گیس کی خریداری کے لئے بیس یورپی کمپنیاں روس کے روبل میں اکاؤنٹ کھولنے کے فیصلے کے آگے تسلیم ہو گئی ہیں۔

بلومبرگ نیوز کے مطابق، اب تک بیس یورپی کمپنیوں نے روس سے گیس کی خریداری کے لئے اس ملک کے بینک میں روبل میں اکاؤنٹ کھول لئے ہیں، جبکہ چودہ کمپنیاں دفتری مراحل میں ہیں۔ ان کمپنیوں کے نام ظاہر نہیں ہوئے ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پوتین نے مارچ کے آخر میں اعلان کیا تھا کہ روس سے گیس خریدنے والے غیر دوست خریداروں کو روس کو روبل میں ادائیگی کرنا ہوگی، ورنہ انہیں گیس کی فراہمی روک دی جائے گی۔

دوسری جانب اقوام متحدہ میں روس کے مستقل مندوب نے انتہا پسند یوکرینی گروہوں پر بچوں کو فوج میں بھرتی کرنے اور روس کے خلاف نفرت کی تربیت دینے کا الزام عائد کیا ہے۔

رشیا ٹوڈے کے مطابق، اقوام متحدہ میں روس کے مستقل مندوب ویسلی نبنزیا نے یوکرین کی صورتحال کے بارے میں سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یوکرین میں بچوں کو روس سے نفرت کی تربیت دی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کے لیے کام کرنے والی بعض انجمنیں انتہا پسندانہ اور فرقہ وارانہ نظریات کی ترویج کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : جنگ یوکرین سے سب سے زیادہ توانائی کا شعبہ متاثر ہوگا، کرسٹالینا جارجیوا

انہوں نے بتایا کہ صرف لوہانسک کے علاقے میں سن دوہزار چودہ سے دوہزار بیس کے عرصے میں، پانچ سو سے زائد افراد تربیتی مراکز میں زخمی ہوئے ہیں۔

روسی عہدیدار نے مزید کہا کہ دونباس کے علاقے میں آج بھی بچے مارے جارہے ہیں اور یوکرینی فوج کے حملوں سے یتیم ہونے والے بچوں کی تعداد میں روزبروز اضافہ ہوتا جارہا ہے۔

ویسلی نبنزیا نے کہا کہ، آزوف بریگیڈ سمیت یوکرین کے فرقہ پرست گروہ بچوں کو مسلح افواج کے لیے بھرتی کر رہے ہیں، تاکہ ان میں روس کے خلاف نفرت بھری جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ یہ مقصد پورا کرنے کی غرض سے سات سے اٹھارہ سال کے بچوں کے لیے خصوصی چھاونیاں قائم کی گئی ہیں اور ماریوپول کی تلیگریم چھاونی ان میں سے ایک ہے۔

اقوام متحدہ میں روسی سفیر نے کہا کہ یوکرین میں سینتوریا نامی بچوں کی تنظیم بہت فعال ہوگئی جس کی اساس ہی انتہائی سخت گیر تفرقہ انگیز نظریات پر استوار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہت سے صحافی اور رپورٹر حضرات گواہ ہیں کہ آزاویتس چھاؤنی میں بچوں کو کس طرح سے بے رحم قاتل بنانے کی تربیت دی جارہی ہے۔

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close