شدید عوامی دباؤ پر سری لنکا کے وزیراعظم مہندا راجا پاکسے نے استعفیٰ دیدیا

10 مئی, 2022 13:55

شیعیت نیوز: سری لنکا کے وزیر اعظم مہندا راجا پاکسے نے شدید مالی بحران کے بعد ملک گیر ہونے والے عوامی احتجاج، مظاہروں اور امن و امان کی شدید بگڑتی ہوئی صورت حال سے مجبور ہوکر اپنے عہدے سے استعفیٰ دیدیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق سری لنکا میں شدید مالی اور سیاسی بحران کے بعد عوامی دباؤ پر وزیر اعظم مہندا راجا پاکسے نے استعفیٰ دے دیا ہے۔ توقع ہے صدر گوتبیا راجا پاکسے پارلیمان میں موجود تمام سیاسی جماعتوں پر مشتمل مشترکہ کابینہ تشکیل دینے کے لیے مدعو کریں گے۔

صدر گوتبیا راجا پاکسے وزیراعظم مہندا راجا پاکسے کے چھوٹے بھائی ہیں اور اسی وجہ سے وہ ملک میں شدید مالی بحران اور پٹرولیم مصنوعات سمیت اشیائے ضرورت کی بے پناہ قلت اور عوامی دباؤ کے باوجود اپنے بھائی سے استعفیٰ نہیں لے رہے تھے۔

سری لنکا کے میڈیا نے دعویٰ کیا ہے وزیراعظم مہندا راجا پاکسے کا استعفیٰ اُس وقت سامنے آیا ہے جب صدر گوتبیا راجا پاکسے نے جمعے کے روز ہونے والے ایک خصوصی اجلاس میں حالات سے مجبور ہو کر وزیراعظم سے ملک میں جاری سیاسی بحران کے خاتمے کے لیے مستعفی ہونے کی درخواست کی تھی۔

صدر گوتبیا راجا پاکسے نے اپنے بھائی اور وزیر اعظم مہندا راجا پاکسے کی سیٹ بچانے کے لیے مظاہروں سے نمٹنے کے لیے ملک میں کرفیو بھی نافذ کیا تھا اور طاقت کا بے دریغ استعمال کیا تھا تاہم مظاہرے تھم نہ سکے تھے۔

یہ بھی پڑھیں : ہم نے پیوٹن کی حمایت کرنے والے بیلاروسی حکام کا بائیکاٹ کیا ہے، امریکی محکمہ خارجہ

دوسری جانب سری لنکا میں جاری پرتشدد ہنگاموں میں 5 افراد ہلاک اور 190 زخمی ہو گئے۔ مشتعل مظاہرین نے مستعفی وزیراعظم کا گھر نذر آتش کر دیا۔ ہنگاموں کو روکنے کے لئے ملک بھر میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق سری لنکا میں سنگین معاشی بحران پر حکومت کیخلاف احتجاج وزیراعظم راجا پاکسے کے استعفے کے بعد بھی جاری ہے۔سابق وزیراعظم کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان جھڑپوں میں 5 افراد ہلاک اور 190 زخمی ہو گئے۔

مشتعل مظاہرین نے کرونیگالا شہر میں راجا پاکسے کا آبائی گھر نذر آتش کر دیا۔ کولمبو کے نواحی علاقے میں سابق وزیر اور حکومتی جماعت کے 2 اراکین پارلمینٹ کے گھر جلا دیے گئے۔

مظاہرین مستعفی وزیراعظم راجا پاکسے کے بھائی اور سری لنکا کے صدر گوتابایا راجا پاکسے سے بھی استعفیٰ دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں اور ان کے دفتر کے باہر ایک ماہ سے دھرنا دیے بیٹھے ہیں۔

سری لنکا بدترین معاشی بحران سے دوچار ہے۔ حکومت کے پاس تیل کی درآمد کے لیے غیر ملکی کرنسی کی قلت ہے اور تیل کی کمی کے باعث بجلی کی بھی شدید کمی کا سامنا ہے۔ شہری پیٹرول اور ایندھن کے لیے گھنٹوں قطار میں لگنے پر مجبور ہیں۔

5:47 شام مارچ 9, 2026
بریکنگ نیوز:
Scroll to Top