اہم ترین خبریںمقبوضہ فلسطین

مسجد اقصیٰ میں عشاء کی اذان پر اسرائیلی پابندی مذہبی آزادی پرحملہ ہے، حماس

شیعیت نیوز: اسلامی مزاحمتی تحریک حماس نے مسجد اقصیٰ میں عشاء کی اذان دینے پر اسرائیلی پابندی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے مذہبی آزادی پر براہ راست حملہ قرار دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق منگل کے مطابق اسرائیلی حکام نے مسجد اقصیٰ میں عشاء کی اذان دینے سے روک دیا تھا۔ حماس نے مسجد اقصیٰ میں اذان کی ادائیگی پراسرائیلی کی مذمت کرتے ہوئے اس اشتعال انگیزی کی تمام تر ذمہ داری اسرائیل پر عائد کی ہے۔

حماس کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اذان پرپابندی کا اقدام مذہبی اشتعال انگیزی اور فلسطینیوں کی مذہبی آزادی پر براہ راست حملہ ہے۔ یہ حملہ نہ صرف فلسطینی قوم بلکہ پوری مسلم امہ کے مذہبی جذبات کو مشتعل کرنے کی مکروہ کوشش ہے۔

حماس نے مسجد اقصیٰ پراسرائیلی دھاووں اور اذان پرپابندی کو اسرائیل کی کھلی مداخلت قرار دیتے ہوئے اس کے تمام خطرناک نتائج کی ذمہ داری اسرائیلی حکومت پر عائد کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : مغربی کنارے کے مختلف علاقوں میں اسرائیلی قابض پولیس کے حملے

دوسری جانب مسجد اقصیٰ کے مبلغ الشیخ عکرمہ صبری نےکہا ہے کہ فلسطینی عوام اور مسجد اقصیٰ میں موجود افراد اس میں ایک نئی حقیقت مسلط کرنے کے اسرائیلی منصوبے کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالیں گے۔

ایک خصوصی انٹرویو میں الشیخ صبری نے کہا کہ قابض حکام مسجد اقصیٰ کے صحن کو کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور وہ ایسا کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ قابض ریاست اپنے طرز عمل اور مکروہ ہتھکنڈوں میں بری طرح ناکام ہوچکا ہے۔ اپنی ناکامی کے بعد اس نے آباد کاروں کو کنٹرول کیا،دراندازی کے راستوں کو تبدیل اور چھوٹا کردیا،  جب کہ رمضان کے مقدس مہینے میں فلیگ مارچ مارچ دیگر منصوبوں میں ناکام رہا ہے۔

شیخ صبری نے مسجد اقصیٰ میں مردو خواتین مرابطین کو سلام پیش کرتے ہوئے مسجد میں موجود رہنے اور  قبلہ اول کی حفاظت جاری رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم المرابطین سلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے قابض دشمن کے منصوبے ناکام بنا دیے۔

متعلقہ مضامین

Back to top button