اسرائیل کا غزہ سے داغا راکٹ مار گرانے کا دعویٰ
شیعیت نیوز: اسرائیل کے عوامی نشریاتی ادارے کان ریڈیو نے پیر کے روز خبردی ہے کہ غزہ کی پٹی سے داغا گیا ایک راکٹ کو آئرن ڈوم دفاعی نظام نے مار گرایا ہے اور مزید کہا ہے کہ یہ گذشتہ قریباً سات ماہ میں غزہ سے جنوبی اسرائیل کی جانب پہلا راکٹ حملہ تھا۔
یروشلم پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق اس سے قبل اسرائیلی فوج نے جنوبی اسرائیل میں واقع علاقوں کیسوفیم اورعین ہاشلوشا میں راکٹ حملے سے خبردار کرنے کے لیے سائرن بجائے تھے۔
کان ریڈیو کی اطلاع کے مطابق اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اورگذشتہ سات ماہ کے دوران میں یہ پہلا موقع ہے جب فلسطینی علاقوں سے اسرائیل کی طرف راکٹ داغا گیا ہے۔
یہ راکٹ حملہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب مقبوضہ بیت المقدس میں واقع مسجد اقصیٰ کے احاطے میں جھڑپوں کے بعد فلسطینی،اسرائیل کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ الاقصیٰ کے احاطے میں تشدد کا آغاز جمعہ کو علی الصبح ہوا تھا اور اس میں اب تک 170 سے زیادہ افراد زخمی ہوچکے ہیں۔ان میں زیادہ تر فلسطینی ہیں۔
مسجدِاقصیٰ اسلام کا تیسرا متبرک ترین مقام ہے۔ یہود کے لیے بھی یہ مقدس ترین مقام ہے۔ وہ اسے ہیکل ماؤنٹ کہتے ہیں۔ یہ تاریخی طور پر فلسطینیوں اور اسرائیلی سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کا ایک اہم مقام رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : فلسطین کے مختلف شہروں میں اسرائیلی فوج نے 5 شہریوں کو گولی مار دی
دوسری جانب صیہونی میڈیا نے بیت المقدس سے فلسطین کے دوسرے علاقوں میں جھڑپیں منتقل ہونے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
اسرائیلی میڈیا نے مقبوضہ فلسطین میں جھڑپوں میں اضافے کی بابت اسرائیلیوں میں پائی جانے والی تشویش کی خبر دی ہے۔
فارس نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی اخبار ہارٹص نے بیت المقدس اور مقبوضہ فلسطین کے دوسرے شہروں میں جھڑپوں میں شدت آنے سے اسرائیلی فوجیوں کی تشویش میں اضافے کی خبر دی ہے۔
المیادین نے ہارٹص کے حوالے سے بتایا ہے کہ مقبوضہ بیت المقدس میں جھڑپوں میں شدت آنے کی وجہ سے اسرائیلی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں میں خوف و ہراس پیدا ہو گیا ہے اور وہ اس بات کو لے کر تشویش میں ہے کہ کہیں یہ کشیدگی دوسرے عرب علاقوں خاص طور پر صیہونی آبادیوں تک نہ پہنچ جائے۔
اسرائیلی اخبار ہارٹص لکھتا ہے کہ یہ تشویش سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی پوسٹوں سے بھی بڑھی ہے جس میں یہ کہا گیا ہے کہ اسرائیل مسجد الاقصی پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے







