مسجد اقصیٰ سے پانچ فلسطینی نمازی گرفتار، تین کی قبلہ اول میں داخلے پر پابندی
شیعیت نیوز : قابض اسرائیلی فوج نے کل اتوار کو بیت المقدس میں مسجد اقصیٰ اور باب العامود کے مقام سے پانچ فلسطینی نمازی کو حراست میں لے لیا جب کہ تین فلسطینیوں کی قبلہ اول میں داخلے پرپابندی عائد کردی۔
مقامی ذرائع نے بتایا کہ قابض اسرائیلی فوج نے مسجد اقصیٰ میں نماز کی ادائیگی کے بعد تین فلسطینی نمازی ابراہیم خلیل، محمد السعد اورخالد ابراہیم کو حراست میں لے لیا۔
ادھر قابض اسرائیلی فوج نے القدس میں تحریک فتح کے رہنما عاھد الرشق، سماجی کارکن ناصر عجاج کو باب العامود کے مقام پر جنین کے اسرائیلی دہشت گردی کے متاثرین سے اظہار یکجہتی پر حراست میں لے لیا۔
دوسری جانب فلسطین میں اسیران کے حقوق کے حوالے سے سرگرم کلب برائے امور اسیران نے ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ رواں سال کے پہلے تین ماہ کے دوران اسرائیلی فوج نے غرب اردن کے شمالی شہر جنین سے کم سے کم 200 فلسطینیوں کو حراست میں لیا۔ ان میں سے نصف فلسطینیوں کی گرفتاریاں مارچ میں عمل میں لائی گئیں۔
یہ بھی پڑھیں : ہمیں کسی بھی وقت صیہونی جابر رجیم کےساتھ ایک جامع تصادم کا انتظار کرنا ہوگا، النخالہ
رپورٹ کے مطابق زیادہ تر گرفتاریاں جنین کے نواحی دیہاتوں اور جنین کیمپ سے کی گئیں۔ حراست میں لیے گئے فلسطینیوں کی عمریں 18 سال سے 35 سال کے درمیان ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حراست میں لیے گئے فلسطینیوں میں سے بیشترکو جسمانی اور نفسیاتی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
خیال رہے کہ اسرائیلی عقوبت خانوں میں اس وقت 4500 فلسطینی پابند سلاسل ہیں۔ انہیں 23 زندانوں میں قید کیا گیا ہے۔
دریں اثنا اسرائیلی قابض حکام نے اتوار کی شام الفصل العنصری دیوار کے ایک نئے حصے کی تعمیر کی منظوری دی ہے۔
اسرائیلی میڈیا ذرائع کا کہنا ہے کہ اسرائیلی کابینہ نے دیوار کے 40 کلومیٹر طویل حصے کو دوبارہ تعمیر کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ سالم کے علاقے سے مغربی کنارے میں واقع طولکرم کے قریبی علاقے بات حیفر تک کنکریٹ کی دیوار تعمیر کی جائے گی۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ وزیرِ دفاع بینی گینٹز کی پیش کردہ تجویز پر اسرائیلی کابینہ نے متفقہ طور پر دیوار کی تعمیر کے لیے 360 ملین اسرائیلی شیقل منظور کیے۔
9 میٹر اونچی دیوار کنکریٹ سے بنی اور حفاظتی آلات سے لیس ہو گی۔تعمیر کا آغاز چند ہفتوں میں متوقع ہے۔







