ہمیں کسی بھی وقت صیہونی جابر رجیم کےساتھ ایک جامع تصادم کا انتظار کرنا ہوگا، النخالہ

شیعیت نیوز : فلسطینی اسلامی جہاد تحریک کے سیکرٹری جنرل نے کہا ہے کہ ہمیں کسی بھی لمحےقابض صیہونی جابر رجیم کے ساتھ ایک جامع تصادم کا انتظار کرنا ہوگا۔
یہ بات زیاد النخالہ نے اتوار کے روز لبنانی ٹی وی ’’المینار‘‘ کے ساتھ انٹرویر دیتے ہوئے کہی۔
انہوں نے بتایا کہ ہمیں لمحہ بہ لمحہ صیہونی جابر رجیم کے سات جامع تصادم کاانتظار کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ فلسطین کے پاس میز پر بہت آپشنز موجود ہیں اور دشمن کا مقابلہ کرنے کے لیے فلسطینی مزاحمتی گروہوں کا اتحاد ضروری ہے۔
النخالہ نے بتایا کہ حالیہ بہادرانہ کارروائیاں قابض حکومت کےساتھ بہادرانہ مقابلہ کیلیے فلسطینیوں کی صلاحیت کو واضح کرتی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ مزاحمتی فرنٹ صیہونیوں کا جواب دے گی اور ہم ایک جامع تصادم کے لیے تیار ہیں اور ہم بیت المقدس یا مغربی کنارے کے بحران پر اپنی آنکھیں کو بند نہیں کر سکتے ہیں اور اس مسئلے کو نظر انداز نہیں کر سکتے ہیں۔
النخالہ نے مزید کہا کہ ہم رمضان المبارک کے مہینے میں جنگ کے دہانے پر ہیں اور ہمارے یقین ہے کہ کہ قابض حکومت اپنی طاقت کے باوجود فلسطینی عوام کے ارادے اور عزم کے سامنے کمزور ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں : اسرائیلی ریاستی دہشت گردی میں مزید تین فلسطینیوں کو شہید کردیا
دوسری جانب مسجد اقصیٰ کے امام اور خطیب اور فلسطین کے ممتاز عالم دین الشیخ عکرمہ صبری نے کہا ہے کہ محکمہ اسلامی اوقاف نے اسرائیل کی طرف سے ماہ صیام کے دوران مسجد اقصیٰ میں اعتکاف پر پابندی اور اسے آخری عشرے تک محدود کرنے کی شرائط مسترد کردی ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ہم مسجد اقصیٰ میں آج ہی سےاعتکاف شروع کرنے پر غور کررہے ہیں۔
میڈیا کو جاری بیان میں الشیخ صبری نے کہا کہ مسجد اقصیٰ سے متعلق علما کے ساتھ اعتکاف ابھی سے شروع کرنے کے بارے میں مشاورت جاری ہے۔
الشیخ صبری نے کہا کہ مسجد اقصیٰ اس وقت سازشوں میں گھر چکی ہے اور صہیونی ریاست یہودی آباد کاروں کے قبلہ اول پر دھاووں کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کررہی ہے۔ فلسطینیوں کو اسرائیلی ریاست کی سازشوں کا ہرسطح پر مقابلہ کرنا ہوگا۔
خیال رہے کہ اسرائیلی پولیس نے ہفتے کے روز فلسطینی نمازیوں کو مسجد اقصیٰ میں داخلے سے روک دیا تھا اور کہا تھا کہ فلسطینیوں کو مسجد اقصیٰ میں اعتکاف کی اجازت نہیں دی جائے گی۔