اسرائیل کوتسلیم کرنے والے مسلم ممالک کے حکمران توبہ کریں، فادر مانوئل مسلم
شیعیت نیوز: اسلامی اور عیسائی مقدسات کے دفاع کے لیے قائم کردہ کمیٹی کے رکن فادر مانوئل مسلم نے کہا ہے کہ ہر وہ ہتھیار جو القدس، الاقصیٰ اور کلیسائے المہد کے لیے نعرے کے تحت نہیں اٹھایا جاتا وہ مشکوک ہے اور ہمیں اسے شکست دینا چاہیے۔
پریس بیانات میں فادر مانوئل مسلم نے اس بات پر زور دیا کہ یروشلم ان لوگوں کو معاف نہیں کر سکتا جنہوں نے اسے چھوڑ دیا اور دشمنوں کے ساتھ معمول کے تعلقات استوار کرتے ہوئے اس کے ساتھ مفاہمت کی۔اسرائیل کو تسلیم کر لیا۔ وہ وہ توبہ کریں اور افسوس کے ساتھ اپنی اصل کی طرف لوٹ آئیں۔
عیسائی رہنما کا کہنا تھا کہ نارملائزیشن کے ذریعے عرب اسرائیل کے ساتھ اسلامی فتوحات کی شکست اور عہد عمر کے سقوط پر دستخط کرنا ہیں۔ فلسطین اب عربوں کی سرزمین نہیں ہے، اور یہ کہ القدس عرب دارالحکومتوں کا دارالحکومت نہیں ہے۔
فادر مانوئل مسلم کا خیال ہے کہ اگر ہر مسلمان اور عرب خاندان القدس کو ایک ناشتے کی قیمت عطیہ کر دے تو یہ تمام مقبوضہ فلسطین کی تاریخ کا چہرہ بدل دے گا۔
مسجد اقصیٰ اور یروشلم شہر کو یہودیت کے مسلسل حملوں اور مہمات کا سامنا ہے۔ اس کے علاوہ پرانے شہر کے محلوں سے اصل باشندوں کو بے گھر کرنے کی منظم کوششیں کی جا رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : تل ابیب کے مصروف علاقے میں شہادت پسندانہ کارروائی، 18 صیہونی ہلاک و زخمی
دوسری جانب خنظلہ مرکز برائے امور اسیران جمعرات شام کو بتایا کہ قابض حکام نے بھوک ہڑتال کرنے والے خلیل عواودہ کو ’’عوفر‘‘ جیل سے رملہ جیل کے کلینک میں منتقل کر دیا ہے۔
مرکز نے ایک پریس بیان میں کہا کہ قابض حکام کی جیلوں کی اتھارٹی نے قیدی عوادہ کو 36 دنوں تک بھوک ہڑتال جاری رکھنے کی وجہ سے اس کی طبیعت خراب ہونے کے بعد اسے رملہ جیل کلینک میں منتقل کیا۔
قیدی عواودہ جن کی عمر 40 سال ہے جو کہ الخلیل کے علاقے اذنا سے27 دسمبر 2021 کو حراست میں لے لیا تھا۔ اس کے بعد اسے انتظامی قید میں ڈالا گیا۔2002 سے اب تک اسے کئی بار حراست میں لیا گیا اور انتظامی قید کی سزا سنائی گئی۔







