جی بی عبوری صوبہ کا اعلان تحریک کی جدوجہد کے دیرینہ مطالبے کی جانب ایک قدم ہے، علامہ ساجد نقوی
شیعیت نیوز: اسلامی تحریک پاکستان نے گلگت بلتستان کے عبوری صوبہ بنائے جانے کے اعلان کو اپنے دیرینہ مطالبے کی جانب ایک قدم قرار دیتے ہوئے اس امر کو جی بی کی عوام کے لیے خوش آئند قرار دیا ہے۔ اور امید ظاہر کی ہے کہ اعلی ایوانوں میں نمائندگی سے جی بی کی عوام کے حقوق کا تحفظ بہتر انداز میں ممکن بنایا جا سکے گا۔ اس امر کا اظہار اسلامی تحریک پاکستان کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا، جس کی صدارت علامہ سید ساجد علی نقوی نے کی۔
اجلاس میں کہا گیا کہ جی بی کی عوام کا ہمیشہ یہ دیرینہ مطالبہ رہا ہے کہ جی بی کی عوام کو باقاعدہ آئینی شہری حقوق دئیے جائیں اور اس ضمن میں تحریک نے جی بی کی عوام کی ہمیشہ بھرپور نمائندگی کی۔ سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی نے مقامی عوام کی قربانیوں اور جدوجہد کو بھی خراج تحسین پیش کیا اور واضح کیا کہ گلگت بلتستان کی عوام کی نمائندہ جماعت تحریک نے بھی اول روز سے جی بی کو پاکستان کا پانچواں آئینی صوبہ بنانے کا ناصرف مطالبہ کر رکھا ہے بلکہ مختلف ادوارِ حکومت میں اس مسلے کے حل کے لیے جدوجہد بھی جاری رکھی، اسی کا نتیجہ ہے کہ آج عبوری صوبہ بنانے کے اقدامات ہو رہے ہیں۔ جو یقینا تحریک کی جدوجہد کے دیرینہ مطالبے کی جانب ایک قدم ہے اور جی بی کی عوام کے لیے خوش آئند بھی ہے۔
تاہم اجلاس میں جی بی کو باقاعدہ پانچواں صوبے بنانے کے حوالے سے اسلامی تحریک پاکستان نے عوامی حقوق اور خوشحالی کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ بھی کیا۔ سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں آئندہ بلدیاتی انتخابات میں اسلامی تحریک پاکستان کا بھرپور حصہ لینے کا اعلان کرتے ہوئے پہلے مرحلے میں خیبر پختونخوا کے باقی ماندہ علاقوں اور پنجاب میں انتخابات کا جائزہ لیا گیا جبکہ دوسرے مرحلے میں صوبہ سندھ کے بلدیاتی انتخابات پر بھی غور کیا گیا اور ووٹر لسٹوں سمیت حلقہ بندیوں کے حوالے سے تحریک کے کردار کو مذید فعال بنانے اور عوام تک تحریک کے منشور کو پہنچانے کے اقدامات کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ سی اے سی نے سیاسی عمل کو بھرپور انداز میں آگے بڑھانے کے لیے تجاویز پر غور کیا اور رابطہ عوام مہم کو بھی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا تاکہ تحریک کا پیغام اور منشور بروقت گھر گھر پہنچایا جا سکے۔ اجلاس میں روس کے یوکرین پر حملے کے باعث یوکرین میں پھنسے ہوئے پاکستانی طلبا کو جنگ زدہ علاقوں سے نکال کر بحفاظت پاکستان پہنچانے کے لیے بھی حکومت سے فوری اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔







