امریکی وزارت خزانہ نے انصار اللہ یمن پر نئی پابندیاں عائد کر دیں

26 فروری, 2022 06:41

شیعیت نیوز: امریکی وزارت خزانہ نے اپنے ایک جاری بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ ہم نے یمن کی مزاحمتی تحریک انصار اللہ کی مالی معاونت کرنیوالے نیٹ ورکس پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔

فارس نیوز کے بین الاقوامی ڈیسک کیمطابق، امریکی وزارت خزانہ نے کل ایک بیان میں کہا ہے کہ ہم نے یمن میں انصار اللہ سے مربوط نیٹ ورک کو اپنی پابندیوں کا نشانہ بنایا ہے۔

امریکی وزارت خزانہ نے اپنے بیان میں دعویٰ ہے کہ یہ نیٹ ورک یمنی حکومت کے خلاف جنگ بھڑکانے میں حوثیوں کی حمایت کرتا ہے۔

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ امریکی وزارت خزانہ کا یہ دعویٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب واشنگٹن نے سعودی عرب اور اس کے زیرقیادت اتحاد کو ہتھیار فروخت کرکے یمن میں جنگ جاری رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ امریکی وزارت خزانہ کا بیان ظاہر کرتا ہے کہ ان نئی پابندیوں کا اطلاق تین افراد اور نو کمپنیوں پر ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں : مجھے سمجھ نہیں آتی کہ جرمنی ہمیں ہتھیار کیوں نہیں بیچتا؟ فیصل بن فرحان

یاد رہے کہ سعودی عرب کی قیادت میں یہ ظالم اتحاد مارچ 2015ء سے یمن کے مستعفی صدر عبد ربہ منصور ہادی کو اقتدار میں واپس لانے کے لیے یمن جیسے غریب ملک کو نشانہ بنا رہا اور شدید ہوائی، زمینی اور دریائی حملے کر رہا ہے۔ یہ حملے یمن کے بنیادی ڈھانچے کی تباہی اور اس غریب عرب ملک میں غربت، بے روزگاری اور وبائی امراض کے پھیلاؤ کا باعث بنے ہیں۔ حملوں کے آغاز سے اب تک ہزاروں یمنی شہری شہید اور زخمی ہوچکے ہیں۔

اقوام متحدہ کے ماہرین یمن کو دنیا کا سب سے بڑا انسانی بحران قرار دیتے ہیں۔ یمن کی 75 فیصد سے زیادہ آبادی کو اس وقت انسانی بنیاد پر کسی نہ کسی طرح کی مدد اور حمایت کی ضرورت ہے۔ ان میں سے لاکھوں افراد ایسے بھی ہیں، جو نہیں جانتے کہ ان کا اگلا کھانا کہاں سے آئے گا۔

10:30 صبح اپریل 21, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔