مکمل آئین کا حصہ بنائے بغیر کسی بھی قسم کی مالیاتی کٹوتی، ٹیکس کا نفاذ آئین کے منافی ہوگا، مرکزی امامیہ کونسل گلگت بلتستان

22 فروری, 2022 11:30

شیعیت نیوز:ترجمان امامیہ کونسل گلگت بلتستان نے میڈیا کو جاری بیان میں کہا ہے کہ گلگت بلتستان کا اہم ترین اور بنیادی مسئلہ آئینی حقوق کا ہے اور 16 نومبر 1947ء سے الحاق پاکستان کے اعلان کے بعد 75 سال الحاق پاکستان کے انتظار میں گزر گئے، مگر وفاق کی عدم دلچسپی کی وجہ سے محرومی کا ایک طویل عرصہ گزر چکا ہے اور اس وقت جی بی تاریخ کے نازک اور اہم ترین دور سے گزر رہا ہے جبکہ جی بی کے مرہون منّت سی پیک منصوبہ عالمی اُفق پر اُبھر کر آیا ہے، جس کے سبب مملکت خداداد پاکستان بھی اقتصادی طور پر عالمی سطح پر نمایاں مقام پانے جا رہا ہے، مگر اس کے باوجود وفاق کا رویہ مایوس کن رہا، جس کے سبب احساس محرومی میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے، جو ناقابل قبول ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ ہم جی بی میں موجود تمام سیاسی و سماجی حلقوں سے امید کرتے ہیں کہ آئینی حقوق کے حصول میں جدّوجہد تیز کرتے ہوئے استحکام پاکستان کو یقینی بنائیں گے اور جی بی کے آئینی حقوق کے حصول کے لئے اکٹھے ہوں اور اپنی جماعت کے اندر رہتے ہوئے جی بی کو قومی دھارے میں شامل کروانے کے لئے اپنا کردار ادا کریں اور الحاق پاکستان کے اعلان کو عملی جامہ پہنانے کی جدّوجہد کرکے اپنے آباء و اجداد کے جذبہ کی پیروی کریں گے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ جی بی کو ایکٹ آف پارلیمنٹ کے تحت حقوق دیئے جائیں۔ گلگت بلتستان کے شہریوں کو وہ تمام بنیادی حقوق دیئے جائیں، جو آئین پاکستان کے تحت کسی بھی صوبے کے شہریوں کو حاصل ہیں، البتہ ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ عبوری صوبہ منزل نہیں مگر ہم اسے منزل کی جانب پیش قدمی سمجھتے ہے۔

یہ بھی پڑھیں: آیت اللہ العظمیٰ سید علی سیستانی کے انتقال کی خبر من گھڑت ہے

ترجمان امامیہ کونسل کا کہنا تھا عبوری صوبے کی صورت میں ہمارے مطالبات پر من و عن عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ جی بی کو دیگر صوبوں کی طرح برابری کی بنیاد پر سینیٹ میں نمائندگی دی جائے اور گلگت بلتستان کے تمام اضلاع کو قومی اسمبلی میں نمائندگی کا حق دیا جائے۔ جی بی کو قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی)، مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) سمیت دیگر آئینی اداروں میں نمائندگی دی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم سمجھتے ہے کہ جی بی کسی بھی طریقہ سے متنازعہ علاقہ نہیں ہے۔ اسلامی جمہوریہ گلگت کی حکومت نے پاکستان سے الحاق کا اعلان کیا، ہم کشمیر کے دونوں حصوں کے بھائیوں سے ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جس آزادی کی تحریک آپ آج تک چلا رہے ہیں، وہ آزادی ہم نے یکم نومبر 1947ء کو ہی حاصل کر لی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: قومی زبان اردو کے ساتھ مادری زبانوں کو بھی ان کا آئینی و جائز حق دیا جائے، علامہ سید ساجد علی نقوی

ترجمان کے مطابق ہمیں بھی اپنا حصہ قرار دے کر ہماری آزادی کا انکار نہ کریں بلکہ ہماری طرح آزادی حاصل کرکے اپنا وجود دکھائیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ جی بی کو متنازعہ ہونے کا طعنہ نہ دیا جائے۔ ہم آزاد ہیں اور آزادی پر فخر بھی کرتے ہیں۔ گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت کے تعین کو استحکام پاکستان کیلئے لازمی سمجھا جائے اور آئین میں ترمیم کرکے مکمل آئینی حقوق دیئے جائیں۔ گلگت بلتستان کو مکمل آئینی تحفظ دیئے بغیر کسی بھی عوامی ملکیتی زمینوں کی الاٹمنٹ کی کوئی حیثیت نہیں، لہذا غیر آئینی اقدام سے گریز کیا جائے۔ گلگت بلتستان کو مکمل آئین کا حصہ بنائے بغیر کسی بھی قسم کی مالیاتی کٹوتی، ٹیکس کا نفاذ آئین کے منافی ہوگا۔

 

6:49 صبح اپریل 10, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔