شہریوں کے لاپتہ ہونے کا کسی کوتو ذمہ دار ہونا چاہئے،لگتا ہےیہ ریاستی پالیسی ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ

15 فروری, 2022 11:10

شیعیت نیوز: وطن عزیز پاکستان میں شہریوں کی جبری گمشدیاں ہمارے معاشرے پر ایک ایسا بدنما داغ ہے جو کہ صاف ہونے کا نام ہی نہیں لیتا، درجنوں شیعہ بے گناہ جوانوں اور علماء سمیت مختلف قومیتوں کے شہری کئی کئی سال سے جبری لاپتہ ہیں اور کوئی پرسان حال نہیں۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے ریمارکس دیئے ہیں کہ لاپتہ افراد کا کسی کو تو ذمہ دار ہونا چاہیئے، لگتا ہے یہ ریاستی پالیسی ہے۔ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے مدثر نارو اور دیگر لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے دائر درخواستوں پر سماعت کی۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے پوچھا کہ کیا اس کا کوئی قانون ہے کہ اسٹیٹ کسی کو اٹھا لے؟ اگر انٹرمنٹ سنٹر ہیں تو اس سے لگتا ہے کہ ریاست کی پالیسی ہے۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل قاسم ودود نے بتایا کہ 8 سو کے قریب افراد ابھی لاپتہ ہیں، ریاست کی ایسی کوئی پالیسی نہیں۔ وکیل کرنل انعام رحیم نے کہا کہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل کا بیان گمراہ کن ہے، ابھی بھی دو ہزار دو سو 52 افراد لاپتہ ہیں، ابھی 31 جنوری کی رپورٹ کے مطابق 221 لاپتہ افراد کی لاشیں ان کے اہل خانہ کے حوالے کر دیں ہیں، لاپتہ افراد کمیشن کی ذمہ داری تھی کہ وہ اس معاملے کی تحقیقات کرتا۔

یہ بھی پڑھیں: سوشل میڈیا پر منافرت پھیلانے والوں اور جہادی تنظیموں کے خلاف کارروائیاں تیز کرنے کا فیصلہ

چیف جسٹس نے کہا کہ یہ تو طے ہے کہ کسی کو بھی ریاست نہیں اٹھا سکتی، تحفظ بھی ریاست نے کرنا ہے، کسی کو تو اس کا ذمہ دار ہونا چاہیئے، کیونکہ بادی النظر میں لگتا ہے کہ یہ ریاست کی پالیسی ہے۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ کل کابینہ کی میٹنگ ہے، سیکرٹری دفاع نے مائرہ ساجد کیس سے متعلق معاملہ کابینہ کے سامنے رکھا ہے، سیکرٹری دفاع کو میں نے کہا کہ وفاقی کابینہ کے سامنے معاملہ رکھیں، سیکرٹری دفاع اور دیگر حکومت کے حکام پر مشتمل کمیٹی بنی تھی۔

مدثر نارو اور دیگر لاپتہ افراد کی بازیابی سے متعلق کیسز میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے جبری گمشدگی سے متعلق کمیشن کے ٹی او آرز (ٹرمز آف ریفرنس) اور کمیشن کی تشکیل کے متعلقہ آرڈرز طلب کر لیے۔ عدالت نے جبری گمشدگی کمیشن کو آئندہ سماعت پر رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل چیئرمین جبری گمشدگی کمیشن کو آگاہ کریں، کیسز میں حتمی دلائل کے لیے اٹارنی جنرل آئندہ سماعت پر پیش ہوں۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت 28 فروری تک ملتوی کر دی۔

10:46 صبح مارچ 28, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔