قیدیوں کے تبادلے کے مذاکرات اقوام متحدہ کی نگرانی میں جاری ہیں، عبدالقادر مرتضیٰ

14 فروری, 2022 12:36

شیعیت نیوز: یمن کی قومی سالویشن حکومت میں قیدیوں کی کمیٹی کے سربراہ عبدالقادر مرتضیٰ نے اعلان کیا کہ حملہ آور اتحادی افواج کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے پر عمل درآمد کے لیے اقوام متحدہ کی سرپرستی میں مذاکرات جاری ہیں۔

عبدالقادر مرتضیٰ نے المسیرہ ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت اقوام متحدہ کے ذریعے دوسرے فریق کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں جس کا مقصد سابقہ ​​معاہدوں سے بڑے معاہدے تک پہنچنا ہے۔

عبدالقادر مرتضیٰ نے بتایا کہ اقوام متحدہ کے ساتھ آخری ملاقات تین ہفتے قبل ہوئی تھی، جس کے دوران دونوں طرف سے ہزاروں قیدیوں کے تبادلے کا معاہدہ طے پایا تھا۔

یمنی عہدیدار نے اقوام متحدہ سے مذاکرات کے اگلے دور میں اماراتی فریق کو شامل کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات جنوبی صوبائی محاذوں اور ساحل کے ساتھ ساتھ ہزاروں قیدیوں کی گمشدگی کا ذمہ دار ہے۔

انہوں نے کہا کہ قیدیوں کے تبادلے کے لیے مقامی جماعتوں کی ثالثی سے درجنوں معاہدے طے پا چکے ہیں، جن پر عمل درآمد سعودی اتحاد نے روک دیا ہے ، جو کہ دونوں فریقوں کے قیدیوں کے خلاف جرم ہے۔

یہ بھی پڑھیں : مائیک پینس نے شمالی کوریا کے خلاف امریکی طاقت کا مظاہرہ کرنے کا مطالبہ کیا

دوسری جانب رپورٹ کے مطابق یمن پر جارح سعودی اتحاد کے حملوں کے آغاز سے اب تک کم از کم 39 ہزار یمنی کینسر میں مبتلا ہوچکے ہیں۔

صنعاء سے تسنیم نیوز کے مطابق، یمن کے ادارہ صحت کے اعلی عہدیدار مطہر المرو نے بتایا کہ ملک کے خلاف جارحیت کے آغاز سے اب تک 39000 افراد کینسر میں مبتلا ہوئے ہیں جنہیں یمن کے ظالمانہ محاصرے کی وجہہ سے بیرون ملک علاج کے لئے بھیجنا ممکن نہیں ہے۔

قابل ذکر ہے 26 مارچ سنہ 2015 سے یمن پر سعودی-امریکی جارحیت شروع ہوئی جس کے نتیجے میں شعبے صحت، ان شعبوں میں ہے جس پر جنگ کے سب سے زیادہ منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

ایک طرف یمن میں کینسر جیسے مرض اور بیماریوں میں مبتلا ہونے والوں کی تعداد دن بہ دن بڑھتی جا رہی ہے اور دوسری طرف یمنی مریض جارح سعودی اتحاد کی طرف سے کی گئی ناکہ بندی کی وجہہ سے علاج کی کمترین سہولتوں سے بھی محروم ہیں۔

مطہر المرو نے بتایا کہ جارح ممالک نے، یمن کے 3000 سے زیادہ کینسر کے مریضوں کو علاج کے لئے بیرون ملک جانے سے روک دیا ہے۔ یہ وہ افراد ہیں جنکے نام یمن کے کینسر سینٹر کی فہرست میں باضابطہ طور پر درج ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یمنی قوم کے رنج و الم کے تعلق سے بین الاقوامی سطح پر خاموشی شرمناک ہے، بین الاقوامی برادری کا ضمیر مردہ ہو چکا ہے اور وہ کسی طرح کے اصول و اقدار کی پابند بھی نہیں رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ اس دنیا میں سامراجی ملکوں کے منصوبوں کو نافذ کرنے کا آلہ بن گیا ہے اور انہیں کے مفادات کی حفاظت کرنا چاہتا ہے، چاہے اسکے لئے قوموں کو نابود اور انکے بچوں کا قتل عام ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔

 

12:03 صبح مارچ 25, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔