یمنی علماء کا بحرینی مظالم کی شدید مذمت، شیعہ علماء کی گرفتاریوں پر عملی اقدام کی اپیل
شیعیت نیوز : یمنی علماء نے بحرینی علماء کی گرفتاریوں کے خلاف اقدام کی ضرورت پر زور دیا۔ حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، یمن کے علماء کی انجمن نے بحرین کی حکمران قیادت پر شیعہ علماء کی گرفتاریوں اور ایران سے تعاون کے الزام میں شہریت واپس لینے کی شدید مذمت کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ایران امریکہ بالواسطہ مذاکرات اسلام آباد میں ممکن، 14 نکاتی یادداشت تفاہم تیار
یمنی علماء کے ایک بیان میں کہا گیا کہ بحرینی علماء اور شہریوں پر مظالم، ظلم، اور غیر قانونی گرفتاریاں اسلامی امت کے علماء اور آزاد لوگوں کی جانب سے عملی اقدام کی متقاضی ہیں۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ لبنان میں حزب اللہ کی جانب سے صیہونی فوجیوں کو دیے جانے والے نقصان اور ان کی مزاحمت، نتن یاہو اور اس کی شکست خوردہ فوج کے خوابوں کو خدا کی مشیت سے خاک میں ملا کر رکھ دے گی۔ یمنی علماء نے حزب اللہ کے مجاہدین کی حمایت پر زور دیتے ہوئے لبنانی علماء کے اس موقف کو سراہا جس میں انہوں نے صیہونی قبضے کے خلاف جہادی حکمت عملی کی تائید کی ہے۔
بیان کے مطابق، فلسطینیوں کی مدد کرنا اسلامی ممالک اور فوجوں پر، خاص طور پر مقبوضہ فلسطین کے پڑوسیوں پر، ایک شرعی فرض ہے۔ یمنی علماء نے سعودی حکومت کے ساتھ خیانت آمیز معاہدوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ وہ یمن کے وسائل لوٹنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے یمن کے حال، مستقبل اور وسائل پر اثرانداز ہونے والے کسی بھی آپشن یا اقدام کی مخالفت پر زور دیا۔
قائم مقام عدن حکومت اور اس کے غیر قانونی فیصلوں پر تنقید کرتے ہوئے یمنی علماء نے عوام سے مطالبہ کیا کہ وہ موجودہ دور کے خطرات سے باخبر رہیں اور مقابلے کے نئے دور کے لیے مکمل طور پر تیار ہوں۔ واضح رہے کہ بحرین کی حکمران قیادت نے گزشتہ چند روز میں 40 سے زائد شیعہ علماء کو جھوٹے الزامات پر گرفتار کیا ہے۔ بحرین کی وزارت داخلہ نے 69 افراد اور ان کے خاندانوں کی شہریت واپس لے لی ہے، الزام ہے کہ انہوں نے ایران کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا اور ایران کے اقدامات کو سراہا۔







