یمن کے مختلف شہروں پر جارح سعودی اتحاد کی بمباری
شیعیت نیوز: جارح سعودی اتحاد کے جنگی طیاروں نے یمن کے دارالحکومت صنعا سمیت مختلف شہروں کو کئی بار حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔ دوسری طرف یمنی جنرل نے کہا کہ ہماری نسل کشی پر دنیا خاموش ہے اور دفاع پر ہنگامہ۔
المیادین کی رپورٹ کے مطابق جارح سعودی اتحاد کے جنگی طیاروں نے کل رات صنعا کے النہدین علاقے پر 5 بار بمباری کی جبکہ صنعا کے اطراف میں واقع علاقوں بنی مطر اور ارحب سنحان کو بھی 3 بار حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔
جارح سعودی اتحاد نے حالیہ ہفتوں کے دوران یمن کے مختلف شہروں کے رہائشی علاقوں کو بارہا اپنے حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔
یمنی فوج کی آپریشنل کمان نے بھی اس ملک کے مغربی صوبے الحدیدہ میں سعودی اتحاد کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی جاری رہنے کی خبردی ہے ۔
رپورٹ کے مطابق جارح سعودی اتحاد اوراس کے زرخرید ایجنٹوں نے گذشتہ چوبیس گھنٹے کے دوران صوبہ الحدیدہ میں کئی بار جنگ بندی کی خلاف ورزی کی۔
یہ بھی پڑھیں : امریکہ اور اسرائیل مسلمانوں کے اصلی دشمن ، سعودی اماراتی حکمراں امریکی پٹھو ہیں، انصار اللہ
دوسری جانب یمنی فوج کے ڈپٹی چیف آف آرمی اسٹاف نے تاکید کی کہ یمنی عوام کے خلاف بمباری اور نسل کشی کے جرائم پر دنیا خاموش ہے لیکن جب یمنی جارحوں کو روکنے کے لیے ڈرون بھیجتے ہیں تو ہر طرف سے مذمت کی آواز سنائی دیتی ہے۔
المسیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق یمنی فوج کے ڈپٹی چیف آف اسٹاف بریگیڈیئر جنرل علی الموشکی نے یمن میں اقوام متحدہ کی ڈپٹی چیف آف مشن دانیلا کروسلاک سے ملاقات کی۔
ملاقات کے دوران یمنی جنرل نے اقوام متحدہ کے نمائندے سے کہا کہ ہم یمن کے مظلوم عوام کی آواز پہنچانے کی ذمہ داری آپ پر چھوڑتے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ آپ پوری دنیا کے سامنے اس قوم کی مظلومیت کا اعلان کریں اور حملہ آوروں اور ان کے کرائے کے قاتلوں کی جانب سےیمنی عوام کےخلاف ہونے والے جرائم سے عالمی برادری کو آگاہ کریں۔
بریگیڈیئر جنرل الموشکی نےاپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ امریکہ یمن میں امن کو وسعت دینے کی کوشش نہیں کر رہا ہےبلکہ اس کا مقصد اس ملک کے قدرتی وسائل کو لوٹنا ہے، چاہے اس کے لیے اسےیمنی عوام کا خون ہی کیوں نہ بہانہ پڑے۔
انہوں نے مزید کہاکہ ہم عوام اور قیادت، غاصبوں کے ساتھ ساتھ ان کے کرائے کے فوجیوں کے خلاف بھی کھڑے رہیں گے اور ہم کسی بھی قیمت پر اپنےملک کی پوری سرزمین کو آزاد کرائیں گے۔
انھوں نے کہا کہ آج ہم جس جدوجہد میں ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم آزاد رہنا چاہتے ہیں اور اپنے فیصلے خود کرنا چاہتے ہیں۔







