فلسطینی مساجد پر یہودی شرپسندوں کےحملے، مفتی اعظم کی مذمت
شیعیت نیوز: فلسطین کے مفتی اعظم الشیخ محمد حسین نے یہودی شرپسندوں کی جانب سے فلسطینی مساجد پرحملوں اور فلسطینی نمازیوں پر تشدد کے مجرمانہ واقعات کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
رپورٹ کےمطابق مفتی اعظم فلسطین نے ایک پریس بیان میں کہا کہ فلسطینی مساجد پر یہودی آباد کاروں کے حملوں کے پیچھے اسرائیلی ریاست کی حمایت ہے جو ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت تاریخی حقائق کو مسخ کرنے کے ساتھ ساتھ اسٹیٹس کو کو تبدیل کرنا چاہتا ہے۔
مفتی اعظم نے مسجد ابراہیمی کے باہر یہودی آباد کاروں کے کیمپ لگانے کے عمل کی بھی مذمت کی اور اسے یہودی شرپسندوں کی مسلمانوں کی عبادت گاہ کو نقصان پہنچانے اور فلسطینیوں کی عبادت میں مداخلت کے مترادف قرار دیا۔
الشیخ محمد حسین نے مسجد ابراہیمی کے قریب صور القلعہ کے مقام پر کھدائیوں کی شدید مذمت کی اور ان کھدائیوں کو یہودی شرپسندوں اور اسرائیلی ریاست کی ملی بھگت قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں : نابلس میں فلسطینیوں کا یہودی آباد کاروں کی گاڑی پر پٹرول بم حملہ
دوسری جانب اسلامی مزاحمتی تحریک حماس کے سیاسی شعبے کے ارکان پر مشتمل ایک وفد عن قریب افریقی ملک الجزائر کا دورہ کرے گا۔
حماس کے سیاسی شعبے کے رکن ھارون ناصرالدین نے بتایا کہ جماعت کا وفد آئندہ ہفتے کو جماعت کے سیاسی شعبے کے رکن خلیل الحیہ کی قیادت میں الجزائر کا دورہ کرے گا۔ دورے میں شامل وفد میں حماس کے شعبہ تعلقات کے رکن حسام بدران اور دیگر شامل ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ الجزائر کی قیادت اور برادران کی طرف سے جماعت کو سرزمین شہدا کے دورے کی دعوت دی گئی ہے جس پر جماعت کا وفد الجزائر کا دورہ کرے گی۔ انہوں نے فلسطینی قوم کے لیے الجزائر کے تعاون اور فلسطینی قوم کے نصیب العین اور تحریک آزادی کی حمایت کوسراہا۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ الجزائر فلسطینی قوم کے دھڑوں میں مصالحت کرنا چاہتا ہے اور حماس الجزائر کے ساتھ اس مقصد کے لیے تعاون پر تیار ہے۔







