اہم ترین خبریںپاکستان

دلوں کے حکمران، شہیدِ نصاب آغا سید ضیاءالدین رضویؒ کو ہم سے بچھڑے 17 برس بیت گئے

اس روز دلوں پر حکمرانی کرنے والے ان کے محبوب قائد آغا سید ضیاءالدین رضوی جنہیں تکفیری دہشت گردوں نے ایک قاتلانہ حملےمیں شدید زخمی کیا تھا زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے اپنے خالق حقیقی سے جا ملے تھے

شیعیت نیوز: 8 جنوری 2005 کا دن ملت جعفریہ پاکستان بالخصوص شیعیان گلگت بلتستان کے لیئے کسی قیامت سے کم نہ تھا ، اس روز دلوں پر حکمرانی کرنے والے ان کے محبوب قائد آغا سید ضیاءالدین رضوی جنہیں تکفیری دہشت گردوں نے ایک قاتلانہ حملےمیں شدید زخمی کیا تھا 13 جنوری کو زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے اپنے خالق حقیقی سے جا ملے تھے۔  انہیں ہم نے بچھڑے 17 برس بیت گئے ہیں لیکن ان کے پاکیزہ خون کے ساتھ ریاست تاحال انصاف کرنےسے قاصر ہے ۔

تفصیلات کے مطابق علامہ شہید سید ضیاء الدین رضوی ایک مذہبی ، علمی اور سادات گھرانے میں گلگت شہر میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد گرامی حضرت حجت الاسلام والمسلمین علامہ سید فاضل شاہ رضوی تھے ۔ انہوں نے ملت تشیع کے لئے عظیم خدمات انجام دیں ۔ آپ نے ایک مجاہد اور عظیم بیٹے یعنی سید ضیاء الدین رضوی کو ملت تشیع کے لئے عظیم سرمایہ و تحفہ کے طور پر چھوڑ دیا۔

شہید سید ضیاء الدین رضوی کے نانا جناب میر احمد شاہ رضوی صاحب تھے کہ جو ۱۸۸۴ میں جناب سید شاہ صفی کے گھر میں پیدا ہوئے ۔ یہ گھرانہ گلگت کے معروف خاندان ،سادات رضوی کے نام سے مشہور تھا۔ جناب میر احمد شاہ رضوی ایک معروف عالم اور خطیب تھے۔ آپ کی مجلس میں شیعہ اور سنی ہر دو فرقے شرکت کرتے تھے۔ آپ جو دعا لوگوں کے لئے کرتے تھے ، وہ پوری ہوجاتی تھی۔ شہید رضوی کے والد گرامی حجت الاسلام علامہ سید فاضل شاہ رضوی ایک متقی ،پارسا اور با عمل عالم تھے۔ ان کی پوری زندگی پانچ وقت کی نماز کی امامت کرانے ، قرآن اور حدیث کا درس دینے، فقہی مسائل بیان کرنے اور صرف، نحو کے پڑھانے میں صرف ہو گئی۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی میں نماز شب کو کبھی ترک نہیں کیا۔ انتہائی خلوص اور سچائی کے ساتھ زندگی بسر کی جس کی بنا پر لوگوں کے درمیان ان کا بڑا احترام تھا۔

یہ بھی پڑھیں: سربراہ ایم ڈبلیوایم علامہ راجہ ناصرعباس کا مری میں سیاحوں کی قیمتی جانوں کے نقصان پر اظہار افسوس

بنیادی قانون کے مطابق شیعہ اور سنی دونوں پاکستان کے رسمی مذہب ہیں۔ پاکستان کو شیعہ اور سنی دونوں نے مل کربنایا ہے ۔ خصوصا شیعوں کی قربانیاں حصول پاکستان کے لئے کسی سے مخفی نہیں ہیں۔ بنیادی قانون کے مطابق نصابی کتابوں کے اندر ہر دو فرقوں کے عقائد مندرج ہونے چاہیے ۔ یہ بھی ذکر ہوا ہے کہ کتابوں کے اندر ایسا درسی مواد لانے سے پرہیز کیا جائے جو مسلمانوں کے درمیان تفرقہ پھیلائے۔ لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ۱۹۹۷ کے بعد پہلی کلاس سے لیکر یونیورسٹی تک تمام کتابوں میں اس قانون کو بالائے طاق رکھتے ہوئے نصابی کتابوں میں ایسے زہریلے افکاردرج کئے گئے ہیں کہ جو شیعہ عقائد کے خلاف ہیں۔

لہذا شہید بزرگوار نے اس زہریلے درسی مواد کے خلاف زبردست تحریک اور مہم چلائی ۔حکومت سے مطالبہ کیا کہ نصاب تعلیم کے اندر ایسا درسی مواد کو رکھا جائے جو سب فرقوں کے لئے قابل قبول ہو۔ اس تحریک کی شیعوں کے علاوہ عام سنی برادران نے بھی بھر پور حمایت کا اعلان کیا اس پر ساری عوام سڑکوں پر آئی سارے حکومتی ادارے بند ہوئے۔ سکول کے طالب علموں نے سکولوں کو بند کیا ۔بازار بھی بند ہوگئے۔

یہ بھی پڑھیں: سی ٹی ڈی کی کارروائی، کالعدم ٹی ٹی پی کے 2 خطرناک دہشت گرد ہلاک

اس کے نتیجے میں حکمران بے بس ہوئے ہر طرح سے شہید کو دبانے کی کوشش کی گئی ۔کئی بار گرفتار کیا گیا لیکن شہید کسی طرح سے حکومت کی دھمکیوں سے مرعوب نہیں ہوئے بلکہ دن بہ دن یہ تحریک شدت پکڑتی گئی جس پر شہید کو خاموش کرنے کے لئے آخری حربہ استعمال کیا گیا اور شہید کو5 جنوری ۲۰۰۵ کے دن تقریبا ۱۲ بجے نماز ظہر پر جاتے ہوئے کلاشینکوف کی گولیوں اور گرنیٹ سے حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں موقع پر شہید کے دو وفادار محافظ حسین اکبر اور عباس علی شہید ہو گئے ۔خود شہید اور آپ کا تیسرا محافظ شدید زخمی ہوئے۔ ان کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے راولپنڈی سی ایم ایچ ہسپتال منتقل کیا گیا، لیکن 13 جنوری 2005 کو زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے گلگت بلتستان کے محبوب قائد سید ضیاء الدین رضوی اپنے محافظ سمیت جام شہادت نوش کرتے ہوئے اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔ ہزاروں چاہنے والوں نے الوداع کرنے کے بعد جامع مسجد گلگت کے صحن میں ان كوسپرد خاک کیا۔ خدا ان کی قبر پر اپنی رحمت کی بارش نازل کرے۔

متعلقہ مضامین

Back to top button