جنوبی عراق میں امریکی فوجیوں پر راکٹوں سے حملہ

01 جنوری, 2022 11:31

شیعیت نیوز: عراقی ذرائع نے جنوبی عراق میں امریکہ کے دہشت گرد فوجی قافلے پر حملہ ہونے کی خبر دی ہے۔

صابرین نیوز کی رپورٹ کے مطابق دہشت گرد امریکی فوجیوں کا یہ قافلہ جنوبی عراق کے صوبے ذیقار کے علاقے ’’الصبہ‘‘ سے گذر رہا تھا جو حملے کا نشانہ بنا۔ اس مرتبہ اس پر راکٹوں سے حملہ کیا گیا۔

اس حملے کی ذمہ داری عراق کے استقامتی محاذ اصحاب الکھف نے قبول کی اور حملے کی ویڈیو بھی جاری کی تاہم ابھی تک ممکنہ طور پر ہونے والے نقصانات کی کوئی رپورٹ نہیں ملی ہے۔ اس امریکی کاروان میں 7 گاڑیاں شامل تھیں جن میں سے 4 کو حملے کا نشانہ بنایا گیا۔

عراق میں دہشت گرد امریکی فوجی ٹھکانوں اور فوجی قافلوں پر مسلسل حملے ہو رہے ہیں اور یہ سلسلہ اب روز کا ایک معمول بن چکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : شام میں امریکہ کے فوجی اڈے پر راکٹوں سے نئے سال کا تحفہ

دوسری جانب نئے عیسوی سال 2022 کے آغاز اور عراق سے امریکہ کے دہشت گرد فوجیوں کے انخلا کی تاریخ گذر جانے کے بعد بغداد میں امریکی سفارت خانے کی سیکیورٹی سخت کر دی گئی۔

الشرق نیوز کی رپورٹ کے مطابق استقامتی محاذ کی جانب سے عراق سے امریکی فوجیوں کے نکلنے کی تاریخ ختم ہونے کے بعد بغداد میں امریکہ کے سفارت خانے نے دفاعی سسٹم سی رام کو فعال اور اسی کے ساتھ بڑے پیمانے پر سفارتخانے کے ارد گرد سکیورٹی فورسز کو تعینات کردیا گیا ہے۔

اس سے قبل عراقی پارلیمنٹ میں الفتح الائنس کے صدر ہادی العامری نے کہا تھا کہ عراق کی بنیادی آئین میں اس ملک میں غیر ملکی فوجیوں کی موجودگی کی اجازت نہیں دی گئی ہے ۔ غیر ملکی فوجیوں کی موجودگی ہمسایہ ممالک کیلئے بھی خطرہ ہیں۔

26 جنوری کو بغداد اور واشنگٹن کے مابین ہوئی موافقت کے مطابق، امریکہ کے جنگی فوجیوں کو 2021 کے اختتام تک عراق سے نکل جانا چاہئیے تھا۔

قابل ذکر ہے کہ عراق کے بیشتر عوام اور سیاسی تنظیمیں اپنے ملک سے امریکیوں کے انخلا کے خواہاں ہیں اور عراق کی پارلیمنٹ نے بھی پانچ جنوری دو ہزار بیس کو عراق سے امریکی فوجیوں کے انخلا کے بارے میں ایک بل کی منظوری دی ہے۔

4:34 شام اپریل 17, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔