دنیا

اقوام متحدہ میں امریکہ و یورپی ممالک کی جانب سے ایران کے خلاف قرارداد منظور

شیعیت نیوز: اقوام متحدہ نے امریکہ و یورپی ممالک کی جانب سے پیش کی جانے والی ایران مخالف قرارداد منظور کر لی ہے۔

تفصیلات کے مطابق آج اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ایران میں انسانی حقوق کی مبینہ ابتر صورتحال کے خلاف 78 موافق، 31 مخالف اور 69 غیرجانبدار ووٹوں کے ساتھ ایک قرارداد منظور کر لی۔

رپورٹ کے مطابق امریکہ، برطانیہ، جرمنی، فرانس، کینیڈا، اسرائیل، سعودی عرب اور بحرین سمیت ایران کے خلاف زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی پر کاربند ممالک نے ایران میں انسانی حقوق کی حالت کو ابتر قرار دیتے ہوئے یہ قرارداد پیش کی اور اس کے حق میں ووٹ ڈالا۔

واضح رہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قراردادیں، اس کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے برعکس تادیبی یا لازم الاجراء نہیں ہوتیں جبکہ امریکہ سمیت یورپی و اتحادی ممالک کی جانب سے ایران کے خلاف وقتا فوقتا ایسی قراردادیں پیش کی جاتی رہتی ہیں۔

ان قراردادوں کے جواب میں ایران کا ہمیشہ سے یہی کہنا ہے کہ وہ انسانی حقوق کی پابندی کو نہ صرف شرعی و قانونی حیثیت سے ضروری جانتا بلکہ اسے اپنے قومی مفاد و سکیورٹی کا جزو بھی سمجھتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں انسانی حقوق کے حوالے سے ایران میں سب سے زیادہ اہتمام کیا جاتا ہے۔

علاوہ ازیں تہران؛ امریکہ و مغربی ممالک کی جانب سے انسانی حقوق کے آلۂ کار کے طور پر استعمال کئے جانے کی بھی شدید مذمت کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : ایران کے خلاف دباؤ کی پالیسی کی مذمت کرتے ہیں، چینی وزیر خارجہ وانگ یی

دوسری جانب اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے کہا ہے کہ ہمیں فلسطینی ریاست کی تعمیر کے لیے عالمی برادری کی زیادہ مضبوط شراکت کی ضرورت ہے۔

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے مقبوضہ علاقوں میں دو ریاستی حل کے حصول کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں  صحافیوں کو بتایا کہ گزشتہ سال ہم نے غزہ میں عمومی طور پر امن دیکھا، تاہم صیہونی حکومت کی طرف سے آباد کاری اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ عمومی طور پر دونوں ممالک کے حل کے لیے اٹھائے گئے اقدامات بہت کم رہے ہیں۔

گوٹیرس نے کہا کہ ہمیں بین الاقوامی برادری کی زیادہ مضبوط شرکت کی ضرورت ہےجبکہ اب تک اس مضبوط تعامل کو متحرک کرنا ممکن نہیں ہو سکا ہے جبکہ یہ ضروری ہے کیونکہ ہمیں کسی بھی قیمت پر بستیوں کے پھیلاؤ اور دیگر اقدامات کو روکنا چاہیے۔

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل نے کہاکہ یہ تصفیے ایک ایسی سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں جو دو ریاستی حل پر عمل درآمد کو ناممکن بنا دے گیاور میں اب بھی مانتا ہوں کہ دو ریاستی حل ہی واحد قابل قبول حل ہے جس کے لیے ہمیں تیزی سے کوشش کرنا چاہیے۔

متعلقہ مضامین

Back to top button